مقبوضہ کشمیر، تقسیم پر برہمی ،احتجاجی مظاہرے

   

سرینگر ، جنیوا /3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری غیر معمولی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کے باعث معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے سرینگر میں صحافیوںکو بھارت مخالف مظاہرے کی کوریج کرنے پر تشدد کانشانہ بنایا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مزمل متو نامی ایک فوٹو جرنلسٹ نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ سرینگر کے علاقے خانیار میں بھارت مخالف مظاہرے کی تصاویر بنا رہا تھا کہ بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے اس پر پیلٹ بندوق تان لی اور اسے مارا پیٹا۔ مسرت زہرا نامی ایک خاتون رپورٹر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اسے بھی سخت توہین آمیزسلوک کا نشانہ بنایا۔ کرفیو اور لاک ڈائون مسلسل جاری ہے۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کرنے پر وادی میں بھارت کے خلاف سخت غصہ پایا جاتا ہے۔ کشمیری عوام بڈگام‘ شوپیاں‘ پلوامہ‘ کلگام سمیت کئی اضلاع میں سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات پر شدید احتجاج کیا۔ بھارتی فورسز نے احتجاج کرنے والوں پر پیلٹ گن چلائی جس سے بیسوں نوجوان زخمی ہو گئے۔ مظاہرے کی کوریج پر آئے صحافیوں پر قابض فورسز نے تشدد کیا جس سے تین صحافی زخمی ہوگئے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کے باعث عوام کو سسکتے ہوئے 90 روز بیت گئے، چپے چپے پر بھارتی فوج کے پہرے کے باوجودکشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ سرینگر میں ہونیو الے مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر بھارتی پولیس نے تشدد کیا اورخوب گالم گلوچ کی۔

جموں و کشمیر کے خانچا فروشوں کی ہفتہ وار بازار میں دوکانیں
سرینگر /3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) شہر کے ہفتہ وار بازار میں آج سرینگر کے خانچا فروشوں نے اپنی عارضی دوکانیں ٹی آر سی چوک اور جہانگیرچوک میں لاگئی تھیں ۔