علاقہ اباالراحہ کی نشاندہی ، 533ملین ڈالر کی سرمایہ کاری،4ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع
ریاض: سعودی عرب نے اس ہفتہ کے شروع میں مقدس شہر مدینہ منورہ کے علاقہ میں سونے اور تانبے کے ذخائر ملنے کا اعلان کیا۔، سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کے مطابق سعودی جیولوجیکل سروے جس کی نمائندگی سروے اور معدنیات کی تلاش کے مرکز نے کی، نے کہا کہ سونے کے ذخائر کی دریافت مدینہ کے علاقے میں ابا الراحہ کی حدود میں کی گئی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ اسی علاقہ میں المدق کے علاقہ وادی الفارع میں چار مقامات پر تانبے کی دھات بھی پائی گئی۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سونے اور تانبے کی دریافتوں سے 533 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تقریباً 4,000 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ ملک کو تیل پر معاشی انحصار سے نکلنے میں مدد ملے گی۔سعودی عرب نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ ملک دہائی کے آخر تک اپنے کان کنی کے شعبے میں 170 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا چاہتا ہے۔ دریافت ہونے والی ان کانوں پر 53کروڑ 30لاکھ ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ العربیہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تاہم کانوں کی ترقی اور استفادہ کی رفتار سست رہی ہے۔ سعودی عرب میں معدنی ذخائر کے تقریباً 5,300 مقامات ہیں۔ اس سال مئی میں سعودی عرب کی وزارت صنعت اور معدنی وسائل نے کان کنی کے شعبے میں 32 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔سعودی جیولوجیکل سروے نے اپنے ٹویٹر ہنڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سونے اور تانبے کے ذخائر مدینہ کے علاقہ ابا الراحہ کی سرحد میں موجود ہیں۔ حکام نے بتایا کہ مدینہ کے المدق علاقہ میں وادی الفارع میں بھی تانبے کی دھاتیں ملی ہیںہماری دریافت سے سعودی عرب اب دنیا کو سرمایہ کاری کے مزید پرکشش مواقع فراہم کرئے گا۔ سونے اور تانبے کے یہ نئے ذخائرسعودی عرب کی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ وہیں سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کان کنی کی توسیع کو اپنے ویژن 2030 کا ایک اہم حصہ قرار دیا ہے۔