ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل، چیف جسٹس ہیما کوہلی نے جی او کی تحریر پر اعتراض جتایا
حیدرآباد: 5 اگست (سیاست نیوز) چیف سکریٹری سومیش کمار نے توہین عدالت کے مقدمات کے لیے سرکاری خزانے سے 58 کروڑ روپئے کی اجرائی کے مسئلہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ سے وضاحت کی ہے۔ ہائی کورٹ نے کل مفاد عامہ کی ایک درخواست کو قبول کرتے ہوئے چیف سکریٹری کے مقدمات کی پیروی کے لیے محکمہ فینانس سے 58 کروڑ کی اجرائی پر اعتراض جتایا تھا۔ عدالت نے قطعی فیصلے تک رقم کی اجرائی روکنے حکومت کو ہدایت دی۔ ہائی کورٹ کی ناراضگی سے پریشان ہوکر چیف سکریٹری نے آخرکار فوری طور پر وضاحت کردی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 58 کروڑ روپئے ان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات کے لیے نہیں ہیں بلکہ اس میں اراضیات کے حصول پر معاوضے کی ادائیگی سے متعلق مقدمات کی رقم شامل ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے چیف سکریٹری کی جانب سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے توہین عدالت کے مقدمات جن میں اراضی حصول کے معاوضے کی ادائیگی باقی ہے ان کے لیے یہ رقم مختص کی گئی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار نے جی او کی اجرائی پر عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالت میں سماعت کے موقع پر اس معاملے کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ چیف سکریٹری کی وضاحت کے بعد عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ رقم کی عدم اجرائی سے متعلق اپنے احکامات واپس لے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے درخواست کی اس معاملے کی ہنگامی طور پر سماعت کی جائے۔ ہائی کورٹ نے جی او کے الفاظ پر حیرت کا اظہار کیا۔ عدالت نے سوال کیا کہ جی او کی تیاری کے پس پردہ کیا مقاصد تھے۔ کاغذ پر کیا تحریر ہے اور وضاحت کیا کی جارہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جی او کا جائزہ لینے پر چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے واضح امکانات ہیں۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مذکورہ جی او کی تحریر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جی او کی اجرائی سے قبل تحریر کا جائزہ لینا کیا محکمہ قانون کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ڈیویژن بنچ نے چیف سکریٹری کو کوئی راحت دیئے بغیر آئندہ سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
