مقننہ و عاملہ کی غلطیوں کودرست کرنا عدلیہ کی ذمہ داری: جسٹس این وی رمنا

,

   

شخصی آزادی کے تحفظ کی ضرورت، سائبر جرائم پر قابو پانے قانون میں ترمیم کا مشورہ، ججس پر حملوں میں اضافہ پر تشویش
حیدرآباد۔/26 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ دستور کے تحفظ کیلئے عدلیہ اہم رول ادا کررہا ہے۔ وجئے واڑہ میں جسٹس ایل وینکٹیشورلو یادگاری لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس رمنا نے کہا کہ نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیئے کیونکہ معیاری تعلیم کے ذریعہ روشن مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر معیاری تعلیم کی فراہمی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ اسپورٹس پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد ترقی کے علاوہ ٹکنالوجی اور صنعتوں کے فروغ کے معاملہ میں ملک کو کئی چیلنجس کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان ان چیلنجس کا مقابلہ کرکے ترقی کی سمت گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 میں ملک کی معیشت بحران کا شکار ہوگئی۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرکے معیشت کے زوال پر قابو پایا گیا۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے عدلیہ کو مختلف چیلنجس کا سامنا ہے۔ شخصی آزادی کے تحفظ کیلئے عدلیہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ عاملہ اور مقننہ نے جب کبھی غلطیاں کی ہیں عدلیہ نے مداخلت کرکے انہیں درست کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظم و نسق کی جانب سے عدم تعاون کا رویہ بھی عدلیہ کیلئے ایک اہم چیلنج ہے۔ انہوں نے کہاکہ انٹر نیٹ سے کئی بے قاعدگیاں انجام دی جارہی ہیں۔انٹر نیٹ سے کسی کے خلاف بھی باآسانی مہم چلائی جاسکتی ہے۔ یہ سرگرمیاں عدلیہ کیلئے ایک سوال ہیں۔ جسٹس رمنا نے کہاکہ منی لانڈرنگ اور ورچول کرنسی کے ذریعہ مجرمانہ فنڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے موجودہ فوجداری قانون میں تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نئے جرائم کا احاطہ کیا جاسکے۔ جسٹس رمنا نے حکومتوںکو مشورہ دیا کہ وہ قانون سازی سے قبل قانونی اُمور کا بغور جائزہ لیں۔ جو قانون تیار کیا جائے وہ دستور کے مطابق ہے یا نہیں اس کا جائزہ لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں ججس پر حملوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ مخالف فیصلہ آنے پر ججس پر تنقید کی جارہی ہے۔ اس طرح کے واقعات کی تحقیقات عدالت کے حکم کے بغیر نہیں کی جارہی ہیں جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ ذمہ داری ہے کہ ججس کیلئے آزادانہ ماحول فراہم کرے۔ ججس کے تقررات میں کئی اداروں کا رول ہوتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ججس کیلئے تحفظ کا انتظام نہیں ہے اور انکی میڈیکل، امکنہ اور دیگر سہولتوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 4.60 لاکھ کیس زیر التواء ہیں ان میں 46 فیصد حکومت سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کیسس اراضیات سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کے تعاون سے ہی عدلیہ بہتر کام کرسکتی ہے۔ قبل ازیں جسٹس این وی رمنا کا امراوتی پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ انہیں قافلہ کی شکل میں لے جایا گیا اور ان کی گاڑی پر پھول برسائے گئے۔ جسٹس رمنا گاڑی سے باہر نکل کر عوام کے استقبال کا جواب دے رہے تھے۔ عوام نے قومی پرچم ہاتھ میں تھامے رکھا تھا اور سڑک کی دونوں جانب طویل راستہ تک لوگ استقبال کیلئے کھڑے رہے۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے احاطہ میں جسٹس رمنا کی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ر