ملازمت کے بجائے ذاتی بزنس کو ترجیح، ہنمکنڈہ کے چندر کی روزانہ 2 ہزار آمدنی

   

حیدرآباد۔ 3 مارچ (سیاست نیوز) ہنمکنڈہ کے سدھا نگر کے رہنے والے سدھاپاٹی پنم چندر نے کاکتیہ یونیورسٹی سے ایم بی اے مارکٹنگ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کی۔ انہوں نے دو مرتبہ چند نمبروں سے موقع گنوادیا جس کے بعد اس نے اپنے والدین کی مالی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے خانگی مارکٹنگ کمپنی میں ملازمت حاصل کرلی۔ تنخواہ بھی حاصل ہو رہی تھی لیکن کمپنی کی جانب سے دی جانے والی اہداف کو مکمل کرنے کے لئے اسے ذہنی دباؤ بڑھتا جارہا تھا اور وہ مایوسی کا شکار ہوگیا جس کے بعد اس نے ملازمت چھوڑ دی۔ دو ماہ تک وہ گھر پر بیٹھا رہا اور گہرائی سے سوچ کر اس نے اپنا کچھ ذاتی کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ لیا اور اس نے باجرہ کا کھانا فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جو صحت کے لئے فائدہ مند ہے۔ اس نے رات کو پکے ہوئے چاولوں میں ہری مرچ اور پیاز ڈالتا ہے اور ساتھ میں چھاچھ بھی لیتا ہے اور باجرے کو بھی اپنے ساتھ رکھ لیتا ہے۔ شہریوں کو یہ غذا فراہم کرنے کے لئے اس نے ہنکنڈہ پبلک گارڈن میں ایک سیلز سنٹر قائم کیا۔ روزانہ وہ شام کو گھر میں باجرے کو چاول میں ملا کر اسے مٹی کے برتن میں رکھ کر اس میں دودھ اور دہی ڈالتے ہیں اگلے دن صبح 6 بجے وہ بیچنے کے لئے سیلز سنٹر پہنچ جاتا ہے جہاں صبح کے وقت چہل قدمی کرنے والے سینکڑوں افراد یہاں آکر ناشتہ کرتے ہیں۔ چندر نے بتایا کہ اس غذا کو صبح کھانے سے بی پی، شوگر، تھائی رائیڈ، السر، قبض، موٹاپا اور دیگر مسائل کو قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس کام کو گزشتہ 8 ماہ سے انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح وہ روزانہ 4 تا 5 ہزار روپے کما رہے ہیں۔ تمام اخراجات کے بعد انہیں روزانہ تقریباً 2000 روپے کا منافع ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خانگی کمپنی میں ملازمت کے دوران وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہا تھا لیکن اب وہ اس چھوٹے کاروبار کے ذریعہ آمدنی حاصل کررہا ہے اور انہیں اب کوئی ذہنی دباؤ نہیں ہے۔ اس کام میں ان کی ماں اور بیوی دونوں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ش