جاریہ ماہ رپورٹ کا امکان، چیف منسٹر کی ملازمین اور اساتذہ کے نمائندوں سے امکانی ملاقات
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں گریجویٹ زمرہ کی قانون ساز کونسل کی 2 نشستوں کے مجوزہ انتخابات کے پیش نظر حکومت نے ملازمین اور اساتذہ کی تائید حاصل کرنے کیلئے پے ریویژن کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل کی دو نشستوں کے علاوہ کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات آئندہ ماہ منعقد ہوسکتے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد انتخابات میں سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی جانب سے ٹی آر ایس حکومت کی مخالفت کی اطلاعات کے پس منظر میں چیف منسٹر کے سی آر نے پے ریویژن کمیشن کی سفارشات کے ذریعہ ملازمین اور ٹیچرس کو خوش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک رپورٹ پیش کرنے کیلئے کمیشن سے خواہش کی گئی۔ حکومت کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر اپریل 2021 سے تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافہ کا فیصلہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے مالی موقف کی صورتحال سے واقف کرانے کیلئے چیف منسٹر سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ اساتذہ اور سرکاری ملازمین نے پی آر سی کے علاوہ دیگر مطالبات کی یکسوئی کیلئے احتجاجی لائحہ عمل کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے۔ چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ انتخابات سے عین قبل ملازمین اور اساتذہ کی ناراضگی برقرار رہے جس کا فائدہ اپوزیشن بالخصوص بی جے پی کو ہوسکتا ہے۔ 30 فیصد اضافہ کی صورت میں سرکاری خزانہ پر 1300 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ عبوری راحت اور دیگر سہولتوں کے سلسلہ میں تلنگانہ نے دیگر ریاستوں سے زیادہ اعلانات کئے ہیں۔ سرکاری ملازمین وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کا بھی مطالبہ کررہے ہیں جس کا چیف منسٹر نے تیقن دیا تھا۔ پی آر سی رپورٹ کی سفارشات کا کابینی اجلاس میں جائزہ لینے کے بعد ہی حکومت عمل آوری کا فیصلہ کرے گی۔ اسی دوران پے ریویژن کمیشن کے ذرائع نے رپورٹ کی پیشکشی کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا اور کہا کہ کمیشن کا کام اختتامی مراحل میں ہے۔ ریاست میں تنخواہوں اور دیگر مراعات پر 24896 کروڑ کا خرچ آتا ہے۔ اکٹوبر تک 12851 کروڑ خرچ کئے گئے۔
