ملازمین و اساتذہ کے پی آر سی پر چیف منسٹر کا جلد فیصلہ

,

   

سابقہ اضلاع میں میڈیکل کالجس کے قیام کی تجویز ‘ کونسل میں وزیر فینانس ہریش راو کی تقریر
حیدرآباد۔ 13 مارچ (سیاست نیوز) وزیر فینانس ٹی ہریش رائو نے تیقن دیا کہ سرکاری ملازمین اوراساتذہ کے پی آر سی کے سلسلہ میں چیف منسٹر جلد فیصلہ کریں گے۔ قانون ساز کونسل میں بجٹ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے ہریش رائو نے کہا کہ حکومت کا بجٹ عوام کیلئے امید افزا ہے جبکہ اپوزیشن کو بجٹ سے مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ سائنٹفک انداز میں تیار کیا گیا جس کے نتیجہ میں اپوزیشن کو تنقید کا موقع نہیں مل سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں انجینئرنگ طلبا کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور طلبا دیگر کورسس میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیس بازادائیگی کی رقم میں کمی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قرض کو مرکز سے حاصل ہونے والے جی ایس ٹی سے مربوط کرکے دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کیلئے قرض لینے کی جو حد مقرر کی گئی ہے اس کے مطابق تلنگانہ نے قرض حاصل کیا ہے۔ 21.3 فیصد کی مقررہ حد سے زیادہ 24 ریاستوں نے قرض لیاہے جبکہ تلنگانہ مقررہ حد سے کم ہے۔ ہریش رائو نے بتایا کہ آمدنی میں اضافے کیلئے حکومت نے خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ مختلف محکمہ جات سے فنڈس حاصل کرکے تعلیم و صحت کے شعبہ جات پر خرچ کیا جارہا ہے۔ قیام تلنگانہ کے بعد ابھی تک ایک لاکھ 23 ہزار افراد کو روزگار فراہم کئے گئے۔ ہریش رائو نے مرکز پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ مرکز‘ ریاستوں کو دیئے جانے والے فنڈس میں ناانصافی کررہی ہے۔ جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسس میں تلنگانہ کی حصہ داری جاری نہیں کی گئی۔ مرکز سے فروری میں جی ایس ٹی بقایاجات کے طور پر 9033 کروڑ وصول طلب ہیں۔ پسماندہ اضلاع کی ترقی کیلئے مرکز کو 450 کروڑ جاری کرنے ہیں جبکہ 14 ویں فینانس کمیشن سے 395 کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منڈل اور ضلع پریشد کو گرام پنچایتوں کی طرح فنڈس جاری کریگی۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ اضلاع میں مرحلہ وار میڈیکل کالجس قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ یونیورسٹیز میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔