30 فیصد فیٹمنٹ کی ادائیگی پر سرکاری خزانہ پر سالانہ 6750 کروڑ کا بوجھ
حیدرآباد :۔ ریاستی حکومت سرکاری ملازمین ، ٹیچرس اور وظیفہ یابوں کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے معاملے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ پی آر سی کمیشن نے اس سلسلہ میں ایک رپورٹ بھی تیار کرلی ہے اور محکمہ فینانس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے پر حکومت پر عائد ہونے والے فاضل بوجھ کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور ملازمین بڑی بے چینی سے پی آر سی کمیٹی کی سفارش کا انتظار کررہے ہیں اور چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے فیٹمنٹ کتنا مقرر کیا جائے گا ۔ اس پر ملازمین میں مباحث شروع ہوگئے ۔ ریاست آندھرا پردیش میں 27 فیصد عبوری الاونس ( آئی آر ) دیا جارہا ہے ۔ اس سے کم دینے پر کیا ملازمین اس کو قبول کریں گے یا 30 فیصد فیٹمنٹ دیا جائے اس پر غور کیا جارہا ہے ۔ ریاست میں 2.62 لاکھ ملازمین ہیں اور 2 لاکھ 67 ہزار وظیفہ یاب ہیں ۔ جملہ 5.29 لاکھ افراد کے لیے پی آر سی پر عمل آوری کرنا ہے جس کا محکمہ فینانس سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے ۔ ریاست کے ملازمین اور وظیفہ یابوں کو ایک فیصد فیٹمنٹ کی ادائیگی پر سرکاری خزانہ کو سالانہ 225 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا ۔ ایک فیصد سے 35 فیصد تک فیٹمنٹ دینے پر عائد ہونے والے بوجھ کا محکمہ فینانس جائزہ لے رہی ہے ۔ اگر ریاست کے ایمپلائز اور پنشنرس کو 20 فیصد بھی فیٹمنٹ دیا جاتا ہے تو سرکاری خزانے کو سالانہ 4500 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا ۔ 22 فیصد دینے پر 4950 کروڑ ، 24 فیصد کی ادائیگی پر 5400 کروڑ ، 25 فیصد پر 5,625 کروڑ ، 27 فیصد پر 6075 کروڑ ، 30 فیصد کی ادائیگی پر 6750 کروڑ ، 35 فیصد کی ادائیگی پر 7875 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا ۔۔
