حیدرآباد۔یکم؍اپریل، ( پی ٹی آئی) تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ریاستی حکومت سے مکمل تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور درخواست کی کہ کوویڈ۔19 کے پیش نظر نافذ لاک ڈاؤن کے سبب مکمل تنخواہوں کی ادائیگی موخر نہ کی جائے۔ حکومت نے تنخواہوں کی ادائیگی میں کچھ کٹوتی کا فیصلہ کیا تھا جس پر کانگریس اور بی جے پی کے بشمول اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کی تھی۔ سرکاری ملازمین کی جے اے سی نے منگل کو منعقدہ اجلاس میں کہا کہ کوویڈ۔19کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں مسلسل مصروف ملازمین کو مکمل تنخواہیں ادا کی جانی چاہیئے نیز وظیفہ یابو کی رقومات میں بھی کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہ کی جائے۔ جے اے سی نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ چیف سکریٹری سومیش کمار کے علم میں لایا گیا ہے جنہوں نے کہا کہ ریاست کو درپیش دشوار کن صورتحال کے پیش نظر اجرتوں کا کچھ حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ جے اے سی نے کہا کہ اس مسئلہ کو چیف منسٹر سے رجوع کیا جائے گا۔ حکومت نے مالیہ کی شدید قلت کی وجہ بتاتے ہوئے 30مارچ کو فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی پر عمل کیا جائے ان میں آئی اے ایس افسران اور وظیفہ یاب شامل ہیں۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چیف منسٹر، وزراء، ارکان اسمبلی و ارکان قانون ساز کونسل، مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین اور مقامی عوامی نمائندوں کی 75 فیصد تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے۔حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ دیگر تمام زمروں کے ملازمین کے معاملہ میں مجموعی تنخواہ کا 50 فیصد حصہ بطور کٹوتی منہا رکھا جائے گا لیکن ملازمین درجہ چہارم، آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹر ملازمین کی مجموعی تنخواہ کا صرف 10 فیصد حصہ منہا کیا جائے گا۔