مختلف برانڈس کی نقل ، فیکٹری پر پولیس کا دھاوا ، آٹا ، پام آئیل اور دیگر اشیاء ضبط
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : شہر کی ہوٹلوں میں صحت و صفائی کا مسئلہ تو سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے ۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہونے لگا ہے کہ کیا جو اشیاء استعمال کی جارہی ہیں کیا وہ درست ہیں ۔ نقلی و ملاوٹی نہیں ہے ۔ کیا یہ اشیاء انسانی صحت کے لیے بہتر و فائدہ مند ہیں یا پھر جان لیوا ہیں ۔ شہریوں میں ایسے سوالات الجھنوں کا شکار بنے ہوئے ہیں چونکہ گذشتہ چند دنوں سے شہر میں پولیس اور فوڈ سیفٹی عہدیداروں کی جانب سے کی جارہی کارروائیوں سے حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں اور ایسی حقیقت کو عہدیداروں نے منظر عام پر لایا ہے جس سے شہریوں کا خوف مزید بڑھ گیا ہے ۔ حالانکہ شہریوں کو اکثریت ان کارروائیوں کے حق میں اور خاطی افراد کو سخت سزا کا مطالبہ کررہے ہیں جو ملاوٹی اشیاء اور ایکسپائری اشیاء کو مارکٹ میں فروخت کررہے ہیں ۔ گذشتہ روز چائے کی پتی کے خلاف کارروائی اور ملاوٹی چائے کی پتی کے بڑے ذخیرہ کو بے نقاب کرنے کے بعد پولیس نے ملاوٹی دودھ کے ایک بڑے اسکام کو منظر عام پر لایا جو دو مختلف برانڈ کے نام سے مارکٹ میں نقلی وملاوٹی دودھ فروخت کررہا تھا ۔ شہریوں کی نفسیات اور موجودہ ماحول کے لحاظ سے اس نے دو برانڈ سری کرشنا اور کوہ نور برانڈ تیار کئے اور ان برانڈس کے دودھ کو مارکیٹ میں فروخت کررہا تھا ۔ میڈپلی حدود میں پولیس نے ایک مقام پر کارروائی کی جہاں باضابطہ نقلی دودھ کی فیکٹری قائم کی گئی تھی ۔ پولیس نے اس فیاکٹری کا پردہ فاش کردیا ۔ جہاں ہر دن 5 ہزار لیٹر نقلی دودھ تیار کیا جاتا ہے اور اس دودھ کو ہوٹلس ، ریسٹورنٹ اور مٹھائی دوکانات اور بڑے کاروباریوں میں فروخت کیا جارہا تھا ۔ پولیس نے اس فیکٹری سے گلوکوز ، چروٹی ، آٹا ، پام آئیل وناسپتی و دیگر اشیاء کو ضبط کرلیا ۔ اس فیکٹری میں خطرناک کیمیکل کی ملاوٹ کرتے ہوئے مصنوعی دودھ تیار کیا جارہا تھا ۔ اس کے علاوہ مکھن دہی اور آئسکریم جیسی اشیاء بھی تیار کی جارہی تھی اور بیگم بازار سے اس کی فروخت گجیندر سنگھ نامی شخص کررہا تھا ۔ پولیس نے اس کی نشاندہی کرلی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ معروف برانڈس کے ذمہ داروں کی جانب سے بارہا شکایت درج کروائی گئی تھی اور وجیہ ڈیری جو سرکاری ڈیری ہے کی جانب سے کئی مرتبہ اس جانب توجہ دلائی گئی تھی اب اس واقعہ کے بعد بازاروں میں سربراہ کی جانے والی اشیاء کے معیار پر پھر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔ فیملی کے ساتھ لنچ اور ڈنر کیا محفوظ ہے اور کونسی ہوٹل کس علاقہ کی ان ملاوٹی اشیاء سے محفوظ ہے اس کا اندازہ لگانا یقینا مشکل ہے ۔ چونکہ ادرک لہسن ، مسالے جات چائے کی پتی دودھ اور چاول تقریبا ہر شئے کی مصنوعی شکل مارکٹ میں سربراہ کی جارہی ہے ۔ ارباب مجاز کو مزید کارروائیوں کی جانب یہ واقعات توجہ دلا رہے ہیں ۔۔ع