ملت فنڈ کے ذریعہ انتقال کے بعد محمد اکبر کی تدفین

   

حیدرآباد۔/26 اکٹوبر، ( راست ) جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘ کو الوال ہوم کا مراسلہ وصول ہوا جس میں زیر پرورش محمد اکبر 22 سال کے انتقال کے بعد تدفین کی درخواست کی گئی۔ واقعات کے بموجب 2018 سے وہ ہوم میں شریک تھے اور اکثر ان کی طبیعت خراب رہتی تھی۔ جناب زاہد علی خان صاحب ایڈیٹر ’سیاست‘ کی ہدایت پر نعش حاصل کرکے سکندرآباد قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔ محمد عبدالرحمن جو اس ہوم کے ذمہ داروں میں ہیں‘ غسل کے فرائض کی تکمیل میں حصہ لیا۔ اس موقع پر سید صابر علی مصلی جامع مسجد غلام نبی شاہ صاحب ؒ نے کہا غسال غسل دیتے وقت میت میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو کسی کے سامنے بیان نہ کرنے پر اللہ پاک غسال کے 40 گناہ کبیرہ معاف کردیتے ہیں اور جب میت کو غسل دیا جائے تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کم سے کم لوگ اس میں شریک رہیں کیونکہ میت شرماتی ہے۔ سکندرآباد کی رہنے والی خاتون صوفیہ خان اور ان کے شوہر محمد محسن خان نے ملت فنڈ میں تعاون کرنے والوں کے لئے دعا کی کہ اللہ پاک ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں نعم البدل عطا فرمائے، مرحومین کی مغفرت کے ساتھ ساتھ ورثاء کے لئے بھی دعا کی کہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ پاک ان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں صاحب کی حیات میں صحت کے ساتھ اضافہ فرمائے۔ ( آمین )