ملت کے مشترکہ مسائل کی یکسوئی کیلئے تلنگانہ مسلم مشاورتی کونسل کا قیام

   

سیاسی شعور کی بیداری ، ووٹر انرولمنٹ ناگزیر ۔ پروفیسر عامر اللہ اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔4؍ اکٹوبر۔ ( پریس نوٹ ) ۔ علمائے کرام اور دانشوران ملتِ اسلامیہ کے دوسرے اجلاس میں جو2؍ اکٹوبر کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم ، جامعہ نظامیہ کامپلکس ،حیدرآباد میں منعقد ہوا۔مختلف مسالک و مکاتب فکر اوراداروں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اور ملتِ اسلامیہ کو درپیش مسائل و حالات سے متعلق غور و خوص کیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل کو ترتیب دینے کیلئے بات چیت کی گئی۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں مولانا ڈاکٹرمحمد سیف اللہ ، پروفیسر مولانا سید جہانگیر ، مولانا عمر عابدین ،جناب خالد مبشر الظفر، جناب اقبال احمدانجینئر ، پروفیسر عامر اللہ خان ، جناب رفیق احمد نظامی، جناب ضیاء الدین نیئر، مولانا سید حسین ، جناب سید عبدالقدیر، مولانا خلیل احمدنظامی ، مولانا خرم جامعی ، مولاناشمشاد قادری، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، مولانا آصف عمری ،مولانا رکن الدین ندوی ودیگر نے شرکت کی۔ان علماء و دانشوران ملت اسلامیہ نے اپنی اپنی جانب سے مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے اظہار خیال کیا۔ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ انکی اپنی مادری زبان سے نابلد ہونا ہے ۔ مولانا ڈاکٹر سید جہانگیر نے کہا کہ ماضی میں یعنی 70سال قبل حیدرآباد عالمِ اسلام کیلئے خصوصی حیثیت رکھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف اور صرف دائرے اسلام میں رہ کر ہی غور و خوص کرنا ہوگا اور اسی میں کامیابی ہوگی۔ مولانا سید حسین مدنی جمعیت اہل حدیث نے کہاکہ ماضی میں مساجد کے کردار کو واضح کرتے ہوئے مستقبل میں اسے بحال کرنے کی جانب توجہ دلائی۔ مولانا عمر عابدین نے کہا کہ اتحاد کی کوشش قابلِ ستائش ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ مقصد ہو تب ہی یہ کوششیں کامیاب ہونگی۔ماہر معاشیات پروفیسر عامر اللہ خان نے کہا کہ ہمیں یہ فکر ہوتی ہے کہ لوگ ہمارے خلاف ہیں، بلکہ یہ سوچیں کہ دوسرے ہمارے متعلق کیا سوچتے ہیں۔جناب مبشر خالد امیر جماعت اسلامیہ ہند حلقہ تلنگانہ نے کہاکہ ملت کی اصلاح و اسلامی اقدار کی جانب رہنمائی نہایت ضروری ہے ۔مولانا رفیق احمد نظامی نے کہا کہ ملت کے مشترکہ مسائل پر کام کرنے کے لیے ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ جناب اقبال احمد انجینئر نے کہا کہ ملت کے مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ جناب ضیاء الدین نیئر نے کہا کہ اتحاد امت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اجلاس میں یہ تجویز بھی آئی کہ اس کمیٹی کا ایک نام طے کیا جانا چاہیے، چنانچہ اتفاق رائے سے اس کمیٹی کا نام ”تلنگانہ مسلم مشاورتی کونسل” رکھا گیا۔آغاز مولانا خالد محمد ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ شیخ محمد عثمان نے تمام علماء و دانشوران کا اجلاس میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔