مسلمانوں کی اکثریت کی آمدنی بالکل بند، بینک کے ذریعہ بلا سودی قرض کی فراہمی کے ذریعہ پریشان حال ملت کی مدد ممکن
حیدرآباد۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاون نے سارے ملک میں معاشی بدحالی پیدا کردی ہے ۔ ملک کے تمام ہی طبقات معاشی پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں۔ خاص طور پر مسلمان اس لاک ڈاون میں بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ۔ مسلسل نامساعد حالات اور لاک ڈاون میں آمدنی بند ہونے کی وجہ سے کئی خاندان جہاں اپنی جمع پونجی خرچ کرچکے ہیں وہیں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو اپنے چھوٹے موٹے طلائی زیورات کو گروی رکھتے ہوئے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہ قرض بھی سود پر حاصل کیا جاتا ہے ۔ چند ماہ تک عدم ادائیگی کی صورت میں غریب اور پریشان حال عوام اپنے زیور سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ تاہم پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے وقتی طور پر جو راستہ انہیں سجھائی دیتا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے وہ اپنے زیورات گروی رکھ دیتے ہیں اور سود ادا کرنے سے اتفاق کرلیتے ہیں۔ جاریہ لاک ڈاون میں چند گھنٹوں کی نرمی کے اوقات میں بھی شہر میں اور خاص طور پر مسلم غالب آبادی والے پرانے شہر کے علاقوں میں رہن سنٹرس پر برقعہ پوش خواتین کا ہجوم دیکھا جا رہا تھا ۔ یہاں خواتین اپنے زیورات رہن رکھتے ہوئے کچھ پیسے حاصل کرنے پہونچی تھیں تاکہ اپنے بال بچوں کا پیٹ پالا جاسکے ۔ کئی خواتین ایسی تھیں جن کے شوہر یا بچے یومیہ اجرتوں پر کام کرنے والے ہیں اور لاک ڈاون کی وجہ سے وہ اپنی آمدنی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہر میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے اور اس کے ہزاروں کروڑ روپئے کے اثاثہ جات موجود ہیں ۔ انتخابی جلسوں میں پوری شعلہ بیانی کے ساتھ عوام کو یہ فریب دیا جاتا ہے کہ یہ سارے اثاثے اور ادارے غریب ملت اسلامیہ ہی کے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر ان غریب مسلمانوں کو کیوں نہیں ملت کے بینک سے طلائی زیورات گروی رکھتے ہوئے ہی بلا سودی قرض نہیں دیا جاتا ؟ ۔ ایسا کرنے سے غریب عوام کو وقتی طور پر کچھ قرض بھی حاصل ہوجائیگا اور انہیں سود ادا کرنے کی لعنت سے اور اغیار کی چوکھٹ پر گھنٹوں انتظار کرنے کی خفت سے بچایا جاسکتا ہے۔ اکثر رہن سنٹرس پر دیکھا گیا ہے کہ غریب خواتین اپنے زیورات گروی رکھنے کے باوجود بھی درکار رقومات حاصل کرنے کے لیے ساہوکاروں کی منت سماجت کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں اور بسا اوقات ان کی مجبوری کا کچھ عناصر ناجائز فائدہ بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ملت کی خواتین اغیار کی چوکھٹ پر اسی طرح کھڑی ہونے کیلئے مجبور ہیں جس طرح وہ الیکشن کے وقت ووٹ ڈالنے قطار میں کھڑی ہوتی ہیں تو پھر ملت کے ہزاروں کروڑ کے اثاثہ جات کا مصرف کیا رہ جاتا ہے ؟ ۔ اگر یہ اثاثہ جات عوام کو وقتی طور پر مدد کیلئے بھی استعمال نہ کئے جائیں تو پھر ان کی افادیت کیا رہ جاتی ہے ؟ ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غریب و پریشان حال مسلمانوں کی مدد کیلئے آگے آیا جائے اور انہیں ملت کے بینک سے زیورات گروی رکھتے ہوئے ہی صحیح قرض فراہم کیا جائے تاہم یہ قرض بلا سودی ہو ۔ بلاسودی قرض کے ذریعہ غریب عوام کی وقتی مدد کی جاسکتی ہے اور خون پسینہ کی کمائی جوڑ جوڑ کر تیار کئے گئے طلائی زیورات بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ لاک ڈاون نے جس قدر مسلمانوں کی کمر توڑی ہے اس سے زیادہ کسی کو نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ مسلمان کسی منظم شعبہ سے اپنا روزگار حاصل نہیں کرتے ۔ صرف یومیہ اجرت پر لاکھوں مسلمان اپنا گذر بسر کرتے ہیں اور لاک ڈاون نے ان کی آمدنی مکمل ختم کرکے رکھ دی ہے ۔ ایسے میں ملت کے اثاثہ جات سے ان کی مدد کی جاسکتی ہے ۔ صرف ایک وقت پیٹ کی آگ بجھانا مسلمانوں کی مدد کرنا نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ان کا مذاق اڑانے والی بات ہے ۔ واقعی سنجیدگی سے اگر مسلمانوں کے مدد ہوسکتی ہے تو انہیں بلا سودی قرض فراہم کرکے کی جاسکتی ہے ۔ ملت کی قیادت کے دعویداروں کی سنجیدگی کا امتحان ہے کہ دیکھیں کہ وہ مسلمانوں کو بلا سودی قرض فراہم کرتے ہیں یاپھر ہمیشہ کی طرح جذباتی استحصال کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔