ملزم محبوب عالم خان کی 2 دن پولیس تحویل کی درخواست

   

وکیل خواجہ معز الدین قتل کیس
عدالت نے مباحث کے بعد فیصلہ /22 جون تک محفوظ کردیا
حیدرآباد 19 جون (سیاست نیوز) شہر کے ایک وکیل خواجہ معزالدین کے قتل کیس میں نامپلی پولیس نے محبوب عالم خان کی 2 دن کی پولیس تحویل کے لئے نامپلی میٹرو پولیٹن کریمنل کورٹ میں درخواست داخل کی ہے۔ مجسٹریٹ نے وکیل دفاع اور سرکاری وکیل کے درمیان بحث کے بعد پولیس تحویل کی درخواست پر فیصلہ کو 22 جون تک محفوظ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ محبوب عالم خان جنھیں پولیس نے ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین قتل کیس میں ملزم نمبر 2 ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اُنھیں 23 جون کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں دے دیا تھا جس پر اُنھوں نے حالیہ دنوں کریمنل کورٹ میں درخواست ضمانت داخل کی تھی۔ مجسٹریٹ نے درخواست ضمانت پر سماعت کو 22 جون تک ملتوی کردیا تھا جس پر پولیس نے اپنا موقف اچانک تبدیل کرتے ہوئے انھیں 2 دن کی پولیس تحویل میں لینے کی درخواست دائر کی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حالانکہ محبوب عالم خان جو 84 سال کے عمر رسیدہ ہیں اور کئی عوارض کا شکار ہیں کو اچانک پولیس تحویل میں لینے کے فیصلہ کے پس پردہ سیاسی محرکات کارفرما ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ جیسے ہی محبوب عالم خاں نے درخواست ضمانت داخل کی، جس پر مقامی سیاسی قائدین نے سرگرم ہوکر پولیس پر اثرانداز ہونے لگے اور ضمانت پر رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے پولیس کو اِن کی تحویل کے لئے مجبور کئے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گزشتہ ہفتہ نامپلی پولیس نے ایڈوکیٹ قتل کیس کے 3 ملزمین مجاہد عالم خان، کشن سنگھ اور ابھیجیت کو 2 دن کی پولیس تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کی تھی اور اُس وقت ضعیف العمر محبوب عالم خان کی پولیس تحویل تحقیقاتی عہدیداروں کے لئے غیر اہم تھی لیکن انھیں پولیس تحویل میں لینے کے لئے پولیس مشنری پر سیاسی دباؤ پیدا کیا گیا ہے۔ درخواست ضمانت پر مزید سماعت اور پولیس تحویل کی درخواست پر فیصلہ 22 جون کو متوقع ہے۔ 23 کو قتل کے بعد سے حلقہ اسمبلی نامپلی کے رکن اسمبلی ماجد حسین نے پولیس اسٹیشن پہونچ کر خاطیوں کو نرمی نہ برتنے کی اور جلد گرفتاری کیلئے دباؤ و دھرنا دیا تھا اور ایک رکن پارلیمنٹ بھی اس کیس میں بہت زیادہ دلچسپی دکھارہے ہیں۔ب؍V