ملعون راجہ سنگھ کیخلاف مقدمہ کی آج ہائیکورٹ میں سماعت

   

میٹرو پولیٹن کورٹس کے احکامات کے خلاف پولیس کی درخواستِ نظرِثانی

حیدرآباد : /25 اگست (سیاست نیوز) گستاخ رسول راجہ سنگھ کے کیس میں تلنگانہ پولیس نے نامپلی میٹروپولیٹین کورٹس کے احکامات کے خلاف ہائیکورٹ میں نظرثانی کی درخواست داخل کی ہے جس کی سماعت چیف جسٹس اجل بھویان جمعہ کی صبح کریں گے ۔ پولیس نے اپنی درخواست میں عدالت کو اپنے حلف نامہ کے ذریعہ بتایا کہ ملزم رکن اسمبلی عادی شرپسند ہے اور وہ فرقہ وارانہ نوعیت کے 18 معاملات میں ملوث ہے ۔ راجہ سنگھ نے دانستہ طور پر ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر عام کیا ہے جس کا مقصد دو فرقوں میں منافرت پھیلانا ہے اور مزید ویڈیوز بھی جاری کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ اس قسم کے واقعات کے اعادہ کو روکنے کیلئے رکن اسمبلی کی گرفتاری ضروری تھی ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ رکن اسمبلی نے اپنے ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے پاس مزید اشتعال انگیز ویڈیوز موجود ہیں اور ان ویڈیوز کو ضبط کرناامن و ضبط کی برقراری کیلئے ضروری ہے۔ پولیس نے کہا کہ رکن اسمبلی کی اس حرکت نے ریاست کے لا اینڈ آرڈر کو تہس نہس کردیا ہے اور بالخصوص دونوں شہروں میں فرقہ وارانہ ماحول گرمایا گیا ہے جس سے شہریوں کی زندگی متاثر ہوسکتی ہے اور تشدد بھی برپا ہوسکتا ہے جس کی بنیاد پر متعلقہ مجسٹریٹ کو پولیس کی ریمانڈ رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے تحقیقات کی تکمیل تک ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیجنا چاہئیے تھا ۔ پولیس نے یہ استدلال پیش کیا کہ گوشہ محل رکن اسمبلی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ہے اور فرقہ وارانہ نوعیت کے کئی معاملات میں ملوث ہے جس کے تحت مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں ۔ یو ٹیوب کے ذریعہ اشتعال انگیز ویڈیوز جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی بروقت گرفتاری عوام کے حق میں ہے ۔ نامپلی میٹروپولیٹین کورٹس کے چودھویں ایڈیشنل میٹروپولیٹین مجسٹریٹ جو فرقہ وارانہ نوعیت کے کیسیس کے جج بھی ہیں کو پولیس کی ریمانڈ رپورٹ پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے تحقیقاتی عہدیداروں کو مزید تحقیقات کیلئے اجازت دینی تھی جبکہ سی آر پی سی کی دفعہ 41A کے تحت نوٹس جاری نہ کرنے کے مسئلہ پر ریمانڈ رپورٹ کو مسترد کردیا گیا تھا ۔ پبلک پراسیکیوٹر سی پرتاب ریڈی نے چیف جسٹس کے اجلاس پر لنچ موشن کے دوران نظرثانی کے تحت داخل کی گئی درخواست پر فوری سماعت کی گزارش کی جس پر چیف جسٹس نے جمعہ کو سماعت کرنے کا اعلان کیا ۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد حکومت تلنگانہ کی جانب سے اپنا موقف واضح کریں گے ۔ /20 اگست کو راجہ سنگھ نے شری رام تلنگانہ چینل پر گستاخانہ ویڈیو جاری کیا تھا