ملعون راجہ سنگھ کی زہرافشانی کی شدید مذمت : اسد اویسی

   


حیدرآباد کا امن بگاڑنے کی کوشش کا بی جے پی پر الزام ، شدت پسند نعروں سے گریز کا نوجوانوں کو مشورہ
حیدرآباد۔23۔اگسٹ(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ اور حیدرآباد میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ہندستانی مسلمانوں سے نفرت اور شان رسالتؐ میں گستاخی بی جے پی کی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ملعون راجہ سنگھ کی زہر افشانی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نپور شرما کے بعد اب بی جے پی رکن اسمبلی جانب سے کی گئی یہ مذموم حرکت ناقابل برداشت ہے اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے راجہ سنگھ کے خلاف کی گئی کاروائی اور اس کی گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے راجہ سنگھ کے خلاف درج کئے گئے مقدمہ کو مضبوط بنانے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ راجہ سنگھ کی آواز کی جانچ کے لئے اس کے نمونوں کو فارنسک لیباریٹری روانہ کیا جائے۔ بیرسٹراسدالدین اویسی نے کہا کہ شان رسالت ماب ﷺ میں کی جانے والی گستاخی پر نوجوانوں میں غم و غصہ فطری ردعمل ہے کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن اپنے نبیؐ کی شان میں کسی بھی طرح کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ انہو ںنے دونوں شہر وں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے سلسلہ میں کہا احتجاج فطری ردعمل ہے لیکن احتجاج کے دوران ’’سر تن سے جدا‘‘ کے نعروں کے وہ حامی نہیں ہیں کیونکہ قانون ہاتھ میں لینے کا کسی کو اختیار حاصل نہیں ہے۔رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے بی جے پی قائدین اور وزیر اعظم سے استفسارکیا کہ بی جے پی کی نپور شرما کے بعد اب حیدرآباد میں ان کے رکن اسمبلی نے جو گندگی پھیلائی ہے اس پر پارٹی کا کیا موقف ہے !انہو ںنے بتایا کہ رات دیر گئے صبح کی اولین ساعتوں میں پارٹی قائدین نے نوجوانوں کو کنٹرول کیا اور پولیس میں شکایت درج کروائی ۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں گذشتہ 8 برسوں کے دوران کسی بھی طرح کی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی فساد جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے لیکن اب سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے بھارتیہ جنتاپارٹی اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعہ عوام میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صدر مجلس نے نوجوانو ںکو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی طرح کی پر تشدد کاروائی یا ’سرتن سے جدا‘ نظریات کا حصہ نہ بنیں بلکہ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے جمہوری حق کا استعمال کریں۔ انہو ںنے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا کہ بی جے پی تلنگانہ میں اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اگلنا بند کریں اور اگر وہ مجلس ‘ ٹی آر ایس اور کانگریس سے مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو سیاسی طور پر مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرے لیکن شہر حیدرآباد کے امن و امان کو نقصان نہ پہنچائے ۔ بیرسٹراویسی نے کہا کہ ہر حیدرآبادی شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر حیدرآباد میں امن و امان کی برقراری کو یقینی بنائے اور شہر کی ترقی میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا کرنے کا حصہ نہ بنیں۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بی جے پی رکن اسمبلی کی حرکت کو انتہائی مذموم اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حرکت سے مسلمان دلبرداشتہ ہوچکے ہیں اور ان کی آنکھوں میں آنسوہیں۔