ملعون راجہ سنگھ کے بھانجہ سے متعلق جھوٹے ویڈیو پر مقدمہ درج

   

سوشیل میڈیا میں اسلام قبول کرنے کا جھوٹا دعویٰ ، سائبر کرائم کی کارروائی

حیدرآباد ۔ 7 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : سوشیل میڈیا میں تحقیق کے بغیر ویڈیو وائرل کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے ۔ پولیس کی جانب سے بارہا انتباہ دیئے جانے کے باوجود سوشیل میڈیا میں بے بنیاد اور گمراہ کن ویڈیوز کے وائرل ہونے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ملعون راجہ سنگھ کے بھانجہ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق ایک جھوٹا ویڈیو ان دنوں سوشیل میڈیا میں کافی وائرل ہوا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ راجہ سنگھ کے بھانجہ نے اسلام قبول کرلیا ۔ سائبر کرائم پولیس نے اس سلسلہ میں کانگریس کے لیڈر عیسیٰ بن عبید مصری اور محمد صدیقی کے خلاف دونوں طبقات کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ ان دونوں نے ویڈیو وائرل کیا تھا ۔ کاروان کے عملہ پور علاقہ سے تعلق رکھنے والے پی سنیل سنگھ نامی شخص نے شکایت درج کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ ایک نامعلوم شخص جھوٹا ویڈیو راجہ سنگھ کے بارے میں وائرل کررہا ہے ۔ ویڈیو میں ایک شخص کو دکھایا گیا جس کا نام شیوا سنگھ ظاہر کیا جارہا ہے جو خود کو راجہ سنگھ کا قریبی رشتہ دار بلکہ بھانجہ ہونے کا دعویٰ کررہا ہے ۔ یہ ویڈیو مسلم میڈیا اسٹوڈیو ( ایم ایم ایس ) چینل اور فیس بک پر وائرل ہوا ۔ سنیل سنگھ نے اپنی شکایت میں کہا کہ وہ حقیقی طور پر راجہ سنگھ کا بھانجہ ہے اور عیسی مصری و صدیقی نے امن بگاڑنے کے لیے یہ ویڈیو تیار کیا ہے ۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر آئی پی سی کی دفعات 153A اور 505(2) کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ واضح رہے کہ راجہ سنگھ پی ڈی ایکٹ کے تحت چرلہ پلی جیل میں ہے اور 22 اگست کو گستاخانہ ویڈیو کی اجرائی کے بعد یہ کارروائی کی گئی ۔ راجہ سنگھ کی اہلیہ نے پی ڈی ایکٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی لیکن کوئی راحت نہیں ملی ۔ گذشتہ ہفتہ یکم ستمبر کو سری رام یوا سینا کی جانب سے راجہ سنگھ کی گرفتاری کے خلاف گوشہ محل اسمبلی حدود میں بند منایا گیا تھا ۔ پی ڈی ایکٹ کی کارروائی کے تحت پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ راجہ سنگھ کے خلاف 2004 سے جملہ 101 مقدمات ہیں اور ان میں سے 18 فرقہ وارانہ نوعیت کے ہیں ۔ر