: ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سیاست ہب فاؤنڈیشن کے ذریعہ 67 لڑکے لڑکیوں کے تقررات:

   

حلال کمائی کے ذریعہ ہی دین و دنیا میں کامیابی یقینی: عامر علی خان
مسلمانوں کا فضول خرچی سے باز آنا ضروری، ملٹی نیشنل کمپنیوں میں تقررات کیلئے انٹرویوز کا انعقاد

حیدرآباد۔ 28 جنوری (سیاست نیوز) اللہ عزوجل اور ہمارے پیارے نبیؐ اپنے محنتی بندوں اور محنتی امتیوں کو پسند کرتے ہیں۔ حضور ؐ نے امت کو محنت کرنے بطور خاص تجارتی شعبہ سے وابستہ ہونے کا حکم دیا ہے چنانچہ دین اسلام میں اکل حلال کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی، ایسے میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہیکہ سچائی و دیانتداری سے کام کریں اور حلال آمدنی کو یقینی بنائیں اور حلال کمائی اور اکل حلال کے ذریعہ ہی ہمیں دین و دنیا میں کامیابی و کامرانی حاصل ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان نے مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمتوں کے لئے روزنامہ سیاست کے آڈیٹوریم میں منعقدہ امیدواروں کے انٹرویوز کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر 308 لڑکے لڑکیوں نے وپرو، ٹیک مہندرا، TCS- ION، کاگنیزنٹ، یو ایس ٹیکشن کمپنی میں مختلف مخلوعہ جائیدادوں کے لئے انٹرویوز دیئے (اگرچہ اس کے لئے 450 لڑکے لڑکیوں نے اپنے نام درج کروائے تھے۔ ان 308 میں سے 67 لڑکے لڑکیوں کو مذکورہ کمپنیوں میں ملازمتیں حاصل ہوئیں جہاں وہ ماہانہ 17,500 تا 25,000 روپے تنخواہ حاصل کریں گے۔ ٹاٹا گروپ میں 41 اور دوسری 4 کمپنیوں میں 26 لڑکے لڑکیوں کے تقررات عمل میں آئے۔ جناب عامر علی خان نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ صرف روزنامہ سیاست میں ایک خبر کی اشاعت پر 450 لڑکے لڑکیوں نے اپنے نام درج کروائے اور ان میں سے 67 کے تقررات عمل میں آئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی بارگاہ رب العزت میں شکر بجالایا کہ ملت میں روزنامہ سیاست کو ایک اخبار نہیں بلکہ تحریک سمجھا جاتا ہے اور روزنامہ سیاست کا مطلب ملت کی مدد ہے۔ واضح رہے کہ جناب عامر علی خان نے ایک لاکھ مسلم خاندانوں کو لکھ پتی بنانے کا اعلان کیا ہے اور سیاست ہب فاؤنڈیشن اسی مقصد کی تکمیل کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ملت میں تعلیمی اور معاشی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو سرکاری اسکیمات سے بھرپور استفادہ کرنے کا مشورہ دیا لیکن افسوس کی بات یہ ہیکہ ہمارے معاشرہ میں فضول خرچی عام ہوگئی ہے۔ ہم سو روپے خرچ کرنے کی بجائے 150 روپے خرچ کرتے ہیں۔ عامر صاحب نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں انسانی زندگی اس کی عمر کے بارے میں سمجھایا اور کہا کہ اگر انسان اپنی زندگی کو 21 برسوں پر محیط تینوں حصوں میں تقسیم کردیئے تو پہلے 21 سال وہ خوشحال زندگی یا بے فکر زندگی گذارتا ہے، دوسرے 21 سال میں محنت کرتا ہے اور تیسرے 21 سال میں وہ اگر خدمت خلق میں مصروف ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی کو کامیاب زندگی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہاں زندگی کے تینوں حصوں میں عبادت تو لازمی ہے۔ انٹرویوز اور تقررات کے موقع پر جناب زاہد فاروقی ڈائرکٹر سیاست ہب فاؤنڈیشن، سیاست جاب، پلیمنٹ سل کے کوآرڈینیٹر میر مجاہد علی، محمد اسلم حسین آئی ٹی اکسپرٹ، محمد شفیق طاہر، محمد الیاس علی، اسسٹنٹ مینجر سیاست ہب فاؤنڈیشن، سائی شری مینجر ایس ۔ ہب اور زینت مسکان انچارج سیاست پلیسمنٹ سل بھی موجود تھے۔