ملکارجن کھرگے اور سدا رامیا سے محمد علی شبیر کی ملاقات

   

کرناٹک میں مسلم تحفظات کی بحالی، تلنگانہ میں قائدین میں اتحاد کا مشورہ

حیدرآباد۔28۔مئی (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے نئی دہلی میں اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر پر صدر کانگریس ملکارجن کھرگے اور چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا سے ملاقات کی اور کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ ملکارجن کھرگے اور سدا رامیا نے کہا کہ بی جے پی کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سماج کے تمام طبقات میں کانگریس کی تائید کی جس کے نتیجہ میں گزشتہ 30 برسوں میں ریکارڈ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ دونوں نے کرناٹک کے اقلیتوں کی جانب سے کانگریس کی تائید کا بطور خاص حوالہ دیا اور کہا کہ کانگریس کی کامیابی میں اقلیتوں کا اہم رول رہا۔ ملکارجن کھرگے اور سدا رامیا نے کہا کہ کانگریس نے عوام سے جو وعدے کئے تھے، ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا ۔ کرناٹک کو فرقہ وارانہ سیاست سے محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ سدا رامیا نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کی بحالی کا تیقن دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں قانونی مشاورت کے بعد حکومت فیصلہ کرے گی۔ 4 فیصد تحفظات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہیں۔ محمد علی شبیر نے اسپیکر اسمبلی کے عہدہ پر یو ٹی عبدالقادر کو مقرر کرنے پر ملکارجن کھرگے اور سدا رامیا کو مبارکباد پیش کی۔ تلنگانہ کی سیاسی صورتحال پر ملکارجن کھرگے نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی تلنگانہ میں برسر اقتدار آئے گی ، لہذا کرناٹک کی طرح کانگریس قائدین کو متحدہ مساعی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کانگریس کے بعض ناراض قائدین کو منانے کیلئے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مقابلہ کی صورت میں تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل یقینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی اعلیٰ قیادت عنقریب تلنگانہ کی انتخابی حکمت عملی طئے کرے گی۔ کرناٹک کی طرح راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی تلنگانہ پر خصوصی توجہ دیں گے۔ ملکارجن کھرگے نے پارٹی کے ناراض قائدین کو واپس لانے کیلئے محمد علی شبیر کو مساعی کرنے کی ذمہ داری دی اور کہا کہ اس سلسلہ میں اے آئی سی سی ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ تلنگانہ میں مسلمان اور پسماندہ طبقات کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ر