برلن ۔ 31 جنوری (ایجنسیز) جرمنی میں امریکہ کے آئی سی ای جیسا کوئی مخصوص ادارہ یا نقاب پوش افسران نہیں ہوتے، لیکن موجودہ چانسلر فریڈرش میرس اور ان کے پیشرو دونوں نے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ جرمنی میں امریکہ کے خصوصی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے مساوی کوئی ایجنسی موجود نہیں، تاہم اگر انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی باویریا شاخ کی چلتی تو ایسا ہو سکتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات سے متاثر ہو کر، امیگریشن مخالف اس جماعت نے اس ہفتہ ایسی ہی ایک تجویز دی ہے۔ ایک دستاویز، جسے جرمن اخبار ’ٹاز‘ نے دیکھا ہے، میں تجویز دی گئی ہے کہ باویریا اسٹیٹ پولیس کے اندر ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے، جسے اے ایف اے یا ’تلاش اور ملک بدری گروپ‘ کہا جائے گا۔ لیکن یہ الگ سوال ہے کہ یہ کتنا مؤثر ہو گا۔ گزشتہ دس برسوں میں جرمن حکومت نے کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ ان تارکین وطن کو ملک بدر کرنا آسان بنایا جا سکے، جن کے بارے میں سرکاری نظام کے مطابق ”قیام کے امکانات کم‘‘ ہیں۔ حالیہ عرصے میں یہ کوششیں مزید تیز ہو گئی ہیں، کیونکہ چانسلر فریڈرش میرس اور ان کے پیشرو اولاف شولز دونوں نے ملک بدری میں قانونی رکاوٹیں کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے اثرات اعداد و شمار میں واضح ہیں: وزارتِ داخلہ کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 کے درمیان 21,311 افراد کو ملک بدر کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے۔ 2023 سے 2024 کے درمیان بھی ملک بدری کے معاملات میں 22 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، 2025 میں 30,000 سے زائد افراد نے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیا، جب انہیں ایک مخصوص نوٹس دیا گیا، جس میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں مقررہ تاریخ تک ملک چھوڑنا لازم ہے۔