ملک بھر میں دوسرے لاک ڈاؤن کی افواہوں سے شہر حیدرآباد میں ہلچل

   

ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے عوام امڈ پڑے ، سرکاری طورپر کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کیلئے کوئی اعلان نہیں

حیدرآباد۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کے دوسرے لاک ڈاؤن کی افواہوں کے سبب شہر حیدرآباد میں بھی شہریو ں کی جانب سے اجناس و اشیائے ضروریہ کی خریدی کی جانے لگی ہے لیکن ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے مزید کسی لاک ڈاؤن کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے مگر کہا جا رہاہے کہ اگر ملک میں دوسری لہر تیز ہوتی ہے تو ایسی صورت میںحکومت کی جانب سے سخت فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔دہلی ‘ کیرالہ ‘ آندھرا پردیش کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعدا دمیں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجا رہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا ئے گا بلکہ ریاستوں اور ریاستی حکومتوں کو لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں اختیارات دے دیئے جائیں گے۔یوروپی ممالک میں دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن اور برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد ہندستانی شہریوں میں بھی اب تشویش پیدا ہونے لگی ہے لیکن مرکزی حکومت کی وزارت ریلوے کی جانب سے 11 نومبر سے بنگال کے نواحی علاقو ںمیں ٹرین خدمات کے آغاز کے فیصلہ سے نہیں لگ رہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن پر کسی قسم کا کوئی غور کیا جا رہا ہے لیکن جن ریاستوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ان ریاستو ںمیں صورتحال کا باریکی سے جائزہ لیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ دوسرے مرحلہ میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کے لئے محکمہ صحت کو چوکس رکھا گیا ہے اور سرکاری دواخانوں میں بستروں کو بہتر بنانے کے علاوہ آکسیجن کی سہولت کی فراہمی کے علاوہ وینٹیلیٹرس کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔مرکزی حکومت کے محکمہ صحت اور آئی سی ایم آر کی جانب سے ملک بھر کی تمام ریاستو ںمیں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اورصحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ تمام تفصیلات مرکزی حکومت کے ذمہ داروں کو روانہ کی جارہی ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے سخت گیر فیصلہ کی صورت میں حکومت کے پاس مکمل ریکارڈ موجود رہے اور اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔