24 گھنٹوں میں 52 اموات ، 742 متاثر ، 77 بیرونی شہری بھی شامل ، 5,062 مریض صحتیابی کے بعد ڈسچارج
نئی دہلی۔ 25 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت صحت کے مطابق خوفناک وباء کووڈ۔ 19 سے ملک بھر میں فوت ہونے والوں کی مجموعی تعداد ہفتہ کو 779 ہوگئی اور متاثرین کی تعداد 25,000 تک پہونچ گئی ہے۔ اس وزارت نے کہا کہ کووڈ۔19 کے کیسیس کی تعداد 18,668 ہے اور 5,062 افراد صحتیابی کے بعد دواخانوں سے ڈسچارج کردیئے گئے ہیں۔ ایک مریض کو اس سے متعلقہ مقام پر روانہ کردیا گیا ہے۔ بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے کووڈ۔19 مریضوں کی تعداد 77 ہے۔ جمعہ کی شام سے 52 اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مہاراشٹرا سے 18، گجرات سے 15، مدھیہ پردیش سے 9، دہلی اور مغربی بنگال سے فی کس 3، ٹاملناڈو سے 2 اور پنجاب، اترپردیش میں فی کس ایک مریض کے فوت ہونے کی اطلاع ہے۔ کووڈ۔ 19 سے فوت ہونے والوں کی تعداد اترپردیش میں 25، ٹاملناڈو میں 22، کرناٹک اور مغربی بنگال میں فی کس 18، دہلی میں 53، آندھرا پردیش میں 29 ، راجستھان میں 27 اور تلنگانہ میں 26 تک پہنچ گئی ہے۔ پنجاب میں تاحال 17 اموات ہوئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں 5 ، کیرلا، جھارکھنڈ اور ہریانہ میں فی کس 3 افراد فوت ہوئے ہیں۔ بہار میں2 اموات کی اطلاع ہے۔ میگھالیہ، ہماچل پردیش، اڈیشہ اور آسام میں فی کس ایک فوت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں 778 افراد فوت ہوئے ہیں۔
جیلوں میں کووڈ پھیلنے سے روکنے کیلئے اقدامات پر دہلی ہائیکورٹ کی رپورٹ طلبی
دہلی ہائیکورٹ نے قومی دارالحکومت کی جیلوں میں کووڈ۔ 19 پھیلنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات پر رپورٹ طلب کی ہے۔ جسٹس برجیش سیٹھی نے قتل کے ایک مقدمہ کے ملزم کو عبوری ضمانت منظوری کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔ ملزم نے جیلوں میں کووڈ پھیلنے کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ’’جیل میں کووڈ۔ 19 کو پھیلنے سے روکنے کیلئے سماجی دُوری جیسے اقدامات کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے 29 اپریل کو آئندہ سماعت مقرر کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت دی کہ وہ جیلوں میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ ملک کی اکثر جیلوں میں قیدیوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے تہاڑ جیل کے چند قیدیوں کو بشرطیکہ مناسبت رہا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ علاوہ ازیں دیگر شہروں کی جیلوں میں بھی حکام نے قیدیوں کی تعداد کم کرنے کیلئے متبادل انتظامات یا انہیں مختصر وقت کیلئے رہا کرنے کا امکانات پر غور کیا ہے۔