ملک میں تیسری کوویڈ لہر جاری، ماہرین کا دعویٰ

   

نئی دہلی : ہندوستانی سائنسدانوں کے کئی جائزہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہیکہ اومی کرون کے بڑھتے کیسوں کے درمیان ہندوستان میں وسط ڈسمبر سے کوویڈ۔19 کی تیسری لہر اپنا اثر قائم کرچکی ہے اور یہ آئندہ سال فروری میں اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی کانپور کے محققین کی ٹیم نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ملک میں کورونا کی تیسری لہر کا اثر قائم ہوچکا ہے۔ عالمی وبا کی ابتدائی دو لہروں سے حاصل شدہ ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے تیسری لہر کی پیش قیاسی کی گئی تھی۔ ماہرین کی ٹیم نے مختلف ملکوں کے ڈیٹا سے بھی استفادہ کیا ہے، جہاں تیسری لہر چل رہی ہے۔ اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ریاضی اور شماریات سوبراشنکر دھار نے کہا کہ وسط ڈسمبر میں تیسری لہر کا اثر قائم ہوچکا جو اوائل فروری 2022ء میں عروج پر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے کیسوں میں یکایک تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔ آئی آئی ٹیز حیدرآباد اور کانپور کی ایک جوائنٹ ٹیم کی قیادت میں علحدہ تحقیقی جائزہ لیا گیا اور اس میں بھی کوویڈ کی نئی لہر قائم ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ آئی آئی ٹی حیدرآباد کے پروفیسر ایم ودیاساگر اور آئی آئی ٹی کانپور کے منندا اگروال نے کہا کہ اومی کرون کے روزانہ کے معاملہ ڈیلٹا ویرینٹ سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔ فی الحال دہلی اور مہاراشٹرا اومی کرون ویرینٹ سے زیادہ متاثر ہے۔