تلنگانہ کسی ایک کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں : کودنڈا رام ، تلنگانہ جنا سمیتی کا پلینری سیشن
حیدرآباد۔/13جولائی، ( سیاست نیوز) پروفیسر یوگیندر یادو صدر سوراج ابھیمان پارٹی نے کہا کہ ملک میں جمہوری اور دستوری ادارے پامال ہورہے ہیں اور ان اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہورہا ہے۔ یوگیندر یادو آج حیدرآباد میں تلنگانہ جنا سمیتی کے پہلے پلینری اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ پلینری اجلاس میں تلنگانہ کے تمام اضلاع سے پارٹی قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ وہ جب بھی حیدرآباد آتے ہیں انہیں کیشو راؤ جادھو کی یاد آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر جئے شنکر ہمیشہ تلنگانہ سے ناانصافیوں اور نئی ریاست کے قیام کی ضرورت کے بارے میں بات چیت کرتے تھے۔ انہوں نے تلنگانہ کے مسائل پر بات چیت کیلئے انہیں ہریانہ سے مدعو کیا تھا۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ مسائل کے سلسلہ میں باہمی بات چیت سے ریاستوں کے درمیان باہمی تال میل میں اضافہ ہوتا ہے اور یہی حقیقی معنوں میں قوم پرستی ہے۔ یوگیندر یادو نے پروفیسر کودنڈا رام کی خدمات کو سراہا اور تلنگانہ تحریک میں ان کے رول کو کلیدی قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں عوام مایوسی کا شکار ہیں۔ جمہوریت کے اصولوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ دہلی میں نریندر مودی اور تلنگانہ میں کے سی آر عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈکٹیٹر شپ حکومت چلارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دستور کی پرواہ کئے بغیر سیاسی مقصد براری کے قدم اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو بی جے پی حکومت کی پالیسیوں و نظریات کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیئے۔ سماج کو تمام طبقات کیلئے فائدہ بخش اور بہتر ماحول کا تیار کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ ملک کی جدوجہد آزادی میں آر ایس ایس اگرچہ شریک نہیں تھی لیکن آج دیش بھکتی کی بڑی دعویدار بن کر اُبھری ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام میں عوام کا اہم رول ہے اور کسی ایک کے سبب تلنگانہ ریاست حاصل نہیں ہوئی۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے تلنگانہ حاصل کیا تو وہ جھوٹا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ علحدہ ریاست کیلئے نوجوانوں نے جو قربانیاں دی تھیں انہیں نظرانداز کردیا گیا ہے۔ حکومت نے شہیدان تلنگانہ کو فراموش کردیا۔ کودنڈارام نے کہا کہ موجودہ سکریٹریٹ کی عمارتوں کو منہدم کرتے ہوئے نئی عمارت کی تعمیر کا منصوبہ ہے لیکن حکومت کو شہیدان تلنگانہ کی یادگار کی تعمیر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کا تحریک کے دوران وعدہ کیا گیا تھا۔