ملک میں جی ایس ٹی پالیسی بری طرح ناکام

   

چین سے معاہدہ کی وضاحت کی جائے، پروفیسر گورو ولبھ کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔29 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) ماہر معاشیات اور اے آئی سی سی کے ترجمان پروفیسر گورو ولبھ نے الزام عائد کیا کہ معاشی امور سے ناواقفیت کے نتیجہ میں مودی نے ملک کی معیشت کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر ولبھ نے کہا کہ ملک میں عوام رقومات کی کمی کا شکار ہیں۔ نوٹ بندی کے ذریعہ عوام کی رقومات کو لوٹا گیا ، اس وقت سے عوام آج تک سنبھل نہیں پائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مودی نے اپنے غیر دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعہ معیشت کو تباہ و تاراج کردیا ہے ۔ میکنگ انڈیا کا نعرہ ناکام ثابت ہوا۔ برخلاف اس کے صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی رفتار بھی سست ہوچکی ہے۔ انہوں نے تجارت کے سلسلہ میں مودی کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ڈیوٹی فری پالیسی سے ملک کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا۔ اس سلسلہ میں چین کے ساتھ معاہدہ کرنے سے قبل عوام کو حقائق سے واقف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت دولتمندوں اور صنعت کاروں کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہیں ٹیکس میں مختلف رعایتیں دی گئیں۔ ہندوستان اور چین کے درمیان معاہدہ کے سلسلہ میں آج تک حکومت نے وضاحت نہیں کی۔ بی جے پی دراصل اس طرح کے معاہدوں کے ذریعہ ملک کو ڈمپنگ یارڈ میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ گورو ولبھ نے کہا کہ ملک کے عوام پر ٹیکس کا بوجھ ایک دہشت کی طرح مسلط کیا گیا ہے۔ مودی کے ان فیصلوں کی کئی ماہرین معاشیات نے مخالفت کی لیکن حکومت اصلاحات کیلئے تیار نہیں ۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ ملک میں ناکام ہوچکا ہے۔