کیسس میں اضافہ پر اظہار تشویش، گورنر کی ماہرین سے مشاورت
حیدرآباد۔/16 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد اور اطراف کے 30 اسمبلی حلقہ جات میں 50 ہزار کورونا ٹسٹ سے متعلق فیصلہ پر ماہرین نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے نامور تحقیقی ادارہ سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکولربیالوجی ( سی سی ایم بی ) کے ڈائرکٹر راکیش مشرا نے ملک بھر میں کورونا ٹسٹ میں اضافہ کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ ریاستی گورنر ٹی سوندرا راجن کی جانب سے کورونا مسئلہ پر ماہرین سے ویڈیو کانفرنس کے دوران راکیش مشرا نے کہا کہ ہندوستان میں موجودہ صورتحال میں کورونا سے نمٹنے روزانہ ایک ملین ٹسٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے 10 اور 14 جون کے درمیان ملک میں 1.5 لاکھ افراد کے معائنوں سے متعلق مرکزی وزارت صحت کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ ایک ملین معائنوں کے ذریعہ کورونا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی کے سلم علاقہ دھاراوی کی طرز پر ملک بھر میں گنجان آبادی والے علاقوں میں ٹسٹ میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹسٹنگ سے متعلق مختلف ٹکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے روزانہ ایک ملین ٹسٹ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوہ نے بتایا کہ آر ٹی۔ ٹی سی آر طریقہ کار کے تحت صرف 8 گھنٹے میں نتائج آسکتے ہیں جبکہ آر این اے طریقہ کار سے نتائج میں تاخیر ہوگی۔ سی سی ایم بی اور بعض دیگر اداروں نے یہ ماڈلس ڈیولپ کئے ہیں۔ حکومت سے اس کی اجازت حاصل کی جارہی ہے جس کے تحت ایک وقت میں 10 ہزار ٹسٹ کئے جاسکتے ہیں۔سابق سکریٹری مرکزی وزارت صحت کے سجاتا راؤ نے کہا کہ ریاست میں بہتر طبی سہولتوں کے باوجود بڑے پیمانے پر ٹسٹوں کا عدم انعقاد باعث حیرت ہے۔ تلنگانہ نے تاحال روزانہ کئے جانے والے ٹسٹوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے ہیں۔ مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 14 جون کو ایک لاکھ 15 ہزار 519 ٹسٹ کئے گئے جبکہ 10 جون کو ایک لاکھ 51 ہزار 808 کورونا ٹسٹ کئے گئے۔ ملک بھر میں روزانہ ایک لاکھ 15 ہزار تا ایک لاکھ 50 ہزار ٹسٹ کئے جارہے ہیں۔