نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کی گرفتاری کے بعد جمعہ کو عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے یہاں مظاہرہ کیا اور کچھ لیڈروں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔کارکنوں نے صبح سے ہی پارٹی ہیڈکوارٹر پہنچنے کی کوشش کی جنہیں پولیس نے مختلف مقامات پر روک دیا۔ اس دوران کارکنوں نے کجریوال کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی اور مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ پولیس نے پارٹی کے سینئر لیڈروں، وزراء، ایم ایل ایز اور کونسلروں کے ساتھ کارکنوں کو مختلف مقامات پر حراست میں لے لیا۔اے اے پی کی قومی تنظیم کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر سندیپ پاٹھک نے کہا، ‘‘آج ملک میں غیرمعلنہ ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی تمام اپوزیشن جماعتوں کو ختم کرنے کے لیے ان کے لیڈروں کو یا تو جیل میں ڈال رہی ہے یا انہیں ڈرا دھمکا کر اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے جو بھی لیڈر بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں، ان کو تو کلین چٹ ملتی جارہی ہے ، لیکن جو بھی لیڈر بی جے پی کی آمریت کی مخالفت کررہے ہیں ان کو ناانصافی، مظالم کا نشانہ بنایاجارہا اور انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر پاٹھک نے کہا، ‘‘عام آدمی پارٹی نے کجریوال کی گرفتاری کے خلاف پرامن احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
، لیکن جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پولیس کا غلط استعمال کر رہی ہے ، وہ ناقابل تصور ہے ۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں اس سے پہلے شاید ہی ایسا ہوا ہو گا۔ بی جے پی کے خلاف احتجاج کے اعلان کے بعد عام آدمی پارٹی کے کئی لیڈروں کو گھر میں نظر بند کردیاگیا ہے ۔ پارٹی کے لوگ جو صبح سویرے اپنے گھروں سے عام آدمی پارٹی دفتر کے لیے نکل رہے تھے ، ان کو حراست میں لے لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے لیکن وزیراعظم کو پرامن احتجاج بھی برداشت نہیں ہوتا۔ ان کے ذہنوں میں اتنی نفرت بھری ہوئی ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی کے ہر کارکن اور لیڈر کو گرفتار کر رہے ہیں۔
کابینی وزیر گوپال رائے نے کہا، ”جس طرح سے یہ برتاؤ کیا جا رہا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے واقعی ملک کے اندر آمریت کا اعلان کر دیا ہے ۔ ایسی خبروں موصول ہورہی ہیں کہ پارٹی دفتر کو بھی چاروں طرف سے سیل کر دیا گیا ہے ۔ اروند کجریوال کے اہل خانہ کو بھی نظر بند کر دیا گیا ہے ، کسی کو بھی آنے اور جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔