مستقبل میں مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ متوقع ، مختلف واقعات منظر عام پر
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔31جولائی۔ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت بتدریج بڑھتی جا رہی ہے اور معمولی واقعات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ایک واقعہ سے ملک کا سیکولر ڈھانچہ متاثر نہیں ہوگا لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران جس طرح کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں وہ ملک میں رہنے والے مسلمانوںکے لئے نوشتۂ دیوار ہیں اور اگر ان حالات سے سبق حاصل کرتے ہوئے حکمت عملی تیارنہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ہندستانی مسلمانو ںکی معیشت مزید تباہ کن حالات تک پہنچ جائے گی ۔ چند برس قبل تک سرکردہ اکثریتی آبادی والے علاقو ںمیں مسلمانوں کو فلیٹ یا مکان نہ دینے کیلئے احتیاط کے ساتھ یہ کہا جاتا تھا کہ مکان صرف سبزی خور افراد کے لئے ہیں اور گوشت خور افراد مکان کرایہ یا رہن پر پوچھ کر شرمندہ نہ کریں لیکن کبھی مذہب کے نام پر ایسا نہیں کیا گیا لیکن گذشتہ ایک برس سے اگر دیکھا جائے تو معمولی امور میں بھی راست مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور ایسی کوشش کرنے والوں کی کھل کر تائید کی جا رہی ہے۔ گذشتہ یوم ZOMATO کے ذریعہ اشیائے تغذیہ کی سربراہی کے سلسلہ میں ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ZOMATOکے گاہک نے یہ کہتے ہوئے اپنا آرڈر کینسل کردیا کہ اس کا کھانا کوئی غیر ہندو ڈیلیوری بوائے لیکر آرہا ہے ۔ ٹوئیٹر پر آر ڈر کینسل کرنے والے نے باضابطہ یہ تحریر کیا ہے کہ وہ محض اس لئے اپنا آرڈر کینسل کر رہا ہے کہ اس کا کھانا جو اس نے آرڈر کیا تھا وہ غیر ہندو شخص پہنچانے والا ہے۔ اس نے ZOMATOسے اس بات کی بھی خواہش کی کہ کمپنی ڈیلیوری کسی اور کے حوالہ کرے لیکن ZOMATO نے واضح جواب دیا کہ کمپنی کی کوئی پالیسی ایسی نہیں ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر آرڈر سربراہ کرنے کے احکامات جاری کرے اور مذہب کو دیکھتے ہوئے ڈیلیوری بوائے تبدیل کرے ۔کمپنی کی جانب سے ٹوئیٹر پر آر ڈر کینسل کرنے والے کو جواب دیتے ہوئے کہہ دیا کہ ’’ غذاء کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ یہ مذہب ہے‘‘لیکن اس کے باوجود آرڈر دینے والے غیر مسلم شخص نے آرڈر کینسل کردیا ۔ واضح رہے کہ سابق میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔
موبائیل کمپنی ائیرٹیل کے کسٹمر کئیر سنٹر پر کال کرنے والی پوجا سنگھ نے شعیب نامی کسٹمر کئیر ایکزیکیٹیو سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مسلمان سے بات کرنا نہیں چاہتی ۔جون2018میں ائیرٹیل میں پیش آئے اس واقعہ سے یہ واضح ہوچکا تھا کہ ملک میں فرقہ واریت کو کس طرح سے فروغ دیا جا رہا ہے اس سے قبل اپریل 2018میں ابھیشیک مشرا نامی شخص جو کہ وشوا ہندو پریشد کا کارکن ہے نے OLA کیاب بک کروائی تھی اور اس بنیاد پر اپنی بک کی گئی کیاب کو منسوخ کردیا کیونکہ اس کا ڈرائیور مسلم تھا اور مسلم ڈرائیور مسعود عالم کے متعلق ابھیشیک نے لکھا تھا کہ وہ کسی جہادی مسلم کو اپنی دولت کا حصہ دینے کے حق میں نہیں ہے اسی لئے وہ اپنی کیاب منسوخ کررہاہے۔حالیہ عرصہ میں نچلی سطح پر فروغ پانے والی اس فرقہ واریت کی روک تھام کیلئے کوئی کاروائی نہ کئے جانے کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوچکی ہے کہ لوگ برسرعام اب مسلمانوں کا سماجی مقاطعہ کرنے لگے ہیں اور اس کا کسی کو احساس بھی نہیں ہورہاہے ۔ اس طرح کے واقعات کے خلاف اب بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو وہ دن دور نہیں جب باضابطہ مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل کی جانے لگے گی اور مسلم تاجرین کو معاشی نقصان پہنچانے کے لئے کھل کرکام کیا جائے گا۔ ائیرٹیل ‘ OLAیا پھر ZOMATO اس طرح کے ایک واقعہ سے کوئی کاروائی نہیں کریں گے لیکن اگر مسلسل اس طرح کی حرکتیں منظر عام پر آتی ہیں تو ایسی صورت میں ان کمپنیوں کی جانب سے کمپنی کے معاشی مفادات کے متعلق تفکرات کا اظہار کرتے ہوئے راست نہ سہی مبہم انداز میں مسلم نوجوانوں کو ملازمت کی فراہمی میں احتیاط کرنے کے اقدامات کئے جانے کا خدشہ ہے اسی لئے فوری اس طرح کے واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایسا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیاجانا چاہئے اور ان افراد کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کا مقدمہ درج کروانے میں تامل نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ ان کا یہ عمل نوجوانوں کی ملازمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور مسلم نوجوانوں کو روزگار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ کھل کر مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل بھی کی جانے لگے گی اور مسلمان خاموشی کے ساتھ صبر کے نام پر برداشت کرتے چلے جائیں گے۔
