ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ

   

جماعت اسلامی ہند کا اظہار تشویش، نئے فوجداری قوانین کی مخالفت
حیدرآباد۔/7 جولائی، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے ملک کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی، ہجومی تشدد اور اقلیتوں کی املاک کو منہدم کرنے کی کارروائیوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پروفیسر سلیم انجینئر نے نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرتشدد واقعات اور بدعنوانیوں کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد مسلمانوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حکومت راج دھرم نبھانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کو منصوبہ بند انداز میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پروفیسر سلیم انجینئر کے مطابق تعصب اور ناانصافی کے رویہ کے نتیجہ میں مسلمانوں نے بی جے پی کے خلاف اپنا ووٹ دیا۔ نتائج کے آتے ہی ملک کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ نئے فوجداری قوانین کو مخالف عوام قرار دیتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نئے قوانین سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ نیٹ امتحانات میں بے قاعدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی شفاف امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہوچکی ہے۔ امتحانات کی نگرانی ریاستی حکومتوں کو دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ قومی سکریٹری جناب شفیع مدنی نے کہا کہ عوام کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن ملک میں حادثات کے قصورواروں پر حکومت کی کوئی گرفت نہیں ہے۔ جناب واثق ندیم خاں سکریٹری اے پی سی آر نے کہا کہ فوجداری کے نئے قوانین سامراجی ذہنیت کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ نئے قوانین کے ذریعہ پولیس کو زائد اختیارات دیئے گئے جن کا استعمال عوام کے خلاف ہوگا۔1