ملک میں مسلمانوں پر مظالم کی انتہا ، حالات سنگین ، دعائے حزب البحر کا اہتمام ضروری

   

مسجد درگاہ حضرات یوسفینؒ میں پروفیسر سید تنویر خدانمائی نے دعا پڑھائی، گھروں میں بھی دعائے حزب البحر کے اہتمام کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ہمارے وطن عزیز ہندوستان کے مختلف مقامات پر اقلیتوں کے ساتھ جس طرح کا ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے اس پر نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی مودی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی جارہی ہے ۔ جہاں تک مسلمانوں کو فرقہ پرستوں کی جانب سے ستائے جانے کا سوال ہے ۔ ایک منصوبہ ہند انداز میں یہ کام کیا جارہا ہے ۔ ان کی جان و مال اور وقار خطرہ میں ہے ۔ اس قدر بدترین حالت میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے رب سے رجوع ہو کر توبہ کریں اور اس کے دربار میں گڑگڑا کر دعائیں مانگیں چنانچہ پروفیسر سید تنویر خدانمائی نے شہر میں دعائے حزب البحر کی اجتماعی تلاوت کی کی مہم شروع کی ہے ۔ یوم غزوہ بدر کے موقع پر مسجد درگاہ حضرات یوسفینؒ نامپلی میں دعائے حزب البحر کی اجتماعی تلاوت کا اہتمام کیا گیا ۔ اس دعا کی تلاوت و اجارت سے پہلے تنویر خدانمائی نے دعائے حزب البحر کی اہمیت اور اثر کے بارے میں بتایا کہ اس دعا کے لیے شیخ ابوالحسن الشاذلی ؒ کی اجازت ہے اور روایت میں آیا ہے کہ دعائے حزب البحر حضور ﷺ نے شیخ ابوالحسن الشاذلیؒ کو خواب میں عطا فرمائی تھی ۔ واضح رہے کہ یوم بدر کو بعد نماز عصر مسجد درگاہ حضرات یوسفینؒ میں دعا کا اہتمام کیا گیا جس میں حزب البحر کی اجازت یافتہ نوجوان ، بزرگوں اور روزہ داروں کی کثیر تعداد شریک رہی ۔ پروفیسر سید تنویر خدانمائی کے مطابق جب تاتاریوں ، منگولوں نے بغداد کو تباہ و برباد کردیا ۔ مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنانے لگے تب امام شاذلی نے فرمایا تھا ’ اگر اہل بغداد میرا حزب البحر تھام لیتے ( یعنی پڑھتے رہتے ) تو غیتم ( دشمن ) ان کو ہلاک نہیں کرسکتا تھا ۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں بھی اس طرح کے حالات پیدا ہوگئے ہیں اور مسلمانوں کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے دعائے حزب البحر پڑھنی چاہئے ۔ پروفیسر سید تنویر خدانمائی کے مطابق لوگ اپنے گھروں میں بھی اس کا اہتمام کرسکتے ہیں ۔ جس کے لیے وہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ۔ بہر حال آج وقت اضطرار ہے مسلمان بے بس و مجبور دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کا اپنے رب سے رجوع ہو کر دعائیں کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔۔