ملک میں مسلمانوں کی آبادی پر سمرتی ایرانی اوراسدالدین اویسی کے درمیان ٹوئٹر جنگ

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی : پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی آبادی سے متعلق مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ مرکزی وزیر نے بھی مسلم آبادی نہ بڑھنے کا اعتراف کرلیا، جس پر ایرانی نے بھی ٹوئٹ کرکے صفائی پیش کی۔ تفصیلات کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کو لے کر اعداد وشمار پر سمرتی ایرانی اور رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی کے مابین ٹوئٹر پر لفظی جنگ جاری ہے۔لوک سبھا میں ملک میںمسلمانوں کی آبادی پر پوچھے گئے ایک سوال میں سمرتی ایرانی کے جواب پر مشتمل ایک نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسدالدین اویسی نے ریمارک کیاکہ ’یونین منسٹر نے بھی کہہ دیاہے کہ مسلمانوں کی آبادی 20کروڑ سے زیادہ نہیں ہے، جبکہ دائیں بازو گروپ کا کہنا ہے کہ چند سالوں میں ہندوستان مسلم اکثریتی ملک بن جائیگا، اس طرح کے پروپگنڈہ سے مسلمانوں کو بدنام کیا جارہا ہے‘۔ انہوں نے کہاکہ ’اگر وہ اعداد و شمار کی ریاضی نہیں سمجھتے تو مجھے امید ہے کہ وہ نریندر مودی کی حکومت پر تو یقین رکھتے ہوں گے‘۔اویسی کے ٹوئٹ کا ایرانی نے جواب دیا کہ ’اخبار کے مضمون میں کہیں بھی ’’زیادہ نہیں ہوگی‘‘ نہیں کہا گیا ہے‘۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’سر مہربانی کرکے رپورٹ جانچ لیں جس کا استعمال آپ نے کیا ہے، اس میں کہیں پر بھی ’’اضافہ نہیں ہوا‘‘ کا جملہ استعمال نہیں کیاگیا ہے۔ مجھے یقین ہے آپ لوگوں کو گمراہ کرنا نہیں چاہتے‘۔اسدالدین اویسی نے پلٹ وار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’وزیر کی رپورٹ کہتی ہیکہ 2023 میں مسلمانوں کی آبادی 19.7کروڑ سے زیادہ نہیں ہوئی ہے۔ ظاہر ہیکہ یہ 20کروڑ سے زیادہ نہیں ہوئی ہے‘۔ اویسی نے اس موضوع پر دوسرے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ریاضی وہی رہتی ہے، مجھے یقین ہے کہ آپ محض الفاظ پر جھگڑا نہیں کریں گی‘۔