حکومت کے نعرے حقیقت سے بعید، محبوب نگر میں جلسہ سے خاتون قائدین اور اسکالرس کا خطاب
محبوب نگر ۔ 11 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہمارے ملک میں مسلم خواتین عدم مساوات کا شکار ہیں۔ دیگر مذاہب کی خواتین کو اختیارات اور مراعات حاصل ہیں وہ ملک کی مسلم خواتین کو حاصل نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حقوق خواتین کی علمبردار، مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس کی خاتون قائدین اور اسکالرس نے کیا۔ وہ ہفتہ کے روز مستقر محبوب نگر کے الماس فنکشن ہال محبوب نگر میں ’’آزادی کے 75 سالوں میں مسلم خواتین کی حالت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ جلسہ عام سے مخاطب تھیں۔ مشہور سماجی جہدکار کلپنا کنابیرن، فلادہ پروین، فریسہ بیگم، خدیجہ بیگم نے کہا کہ حکومت نے خواتین کے حقوق کے لئے جو نعرے لگائے اور شور شرابہ کیا وہ حقیقت سے خالی ہیں۔ گجرات فسادات کے حقائق سے ساری دنیا بہتر واقف ہے، کئی خواتین کی عصمتیں تار تار کی گئیں، بے شمار وحشیانہ قتل کئے گئے، بربریت کا ناچ چلتا رہا، بلقیس بانو کے خاندان کے 14 افراد کا قتل کیا گیا ان کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور عورتوں کے حقوق اور ان کے ناموس کے تحفظ کی بات کرنے والی بی جے پی کی گجرات والی حکومت نے بلقیس بانو کے مجرمین کو رہا کردیا۔ ساری انسانیت کو شرمسار کرڈالا، آزاد ملک میں مسلم خواتین کو کیا مقام حاصل ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ خاتون مقررین نے بیک آواز لگائی کہ اب بلقیس بانو کو انصاف دلانے ہم سب کو دوسری لڑائی کی تیاری کرنا ہوگا۔ جلسہ کی سرپرستی حفیظہ تسلیم، فرحانہ، سری دیوی نے کی۔ جلسہ میں ایک ہزار سے زائد مسلم خواتین و طالبات نے شرکت کی۔ جلسہ کی کامیابی میں حنیف احمد کنوینر ایم آر جے اے سی مولانا عبدالناصر مظاہری صدر جمعیۃ علماء محبوب نگر، حاجی سلیم ایڈوکیٹ، کامریڈ خلیل، شیخ فاروق حسین صدر ریاستی المیوا، کامریڈ نظام الدین، محمد عبدالرحیم و دیگر نے اہم رول ادا کیا۔