نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے آج بی جے پی کے تمام ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ اپنی خوراک میں جوارباجرا جیسے موٹے اناج کااستعمال کریں اور ملک میں بھی اس کے رواج کو فروغ دینے کیلئے ایک عوامی تحریک شروع کریں۔ مودی نے یہ بات بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں کہی۔ میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر پارلیمانی امور پرہلاد جوشی، مرکزی وزرائے مملکت ارجن رام میگھوال اور وی مرلی دھرن شامل تھے ۔ ملاقات میں پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیر اعظم نے ممبران پارلیمنٹ سے ایم پی اسپورٹس ایونٹ منعقد کرنے کو بھی کہا۔ میٹنگ میں مودی نے ارکان پارلیمنٹ کو جوارباجرا جیسے موٹے اناج کھانے اور ملک میں اسے فروغ دینے کا مشورہ دیا اور ارکان پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ میں آج موٹے اناج کا خصوصی کھانا کھانے کی اپیل کی۔زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے تمام ممبران پارلیمنٹ کیلئے موٹے اناج کے کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں جوار باجرہ جیسے موٹے اناج سے بنے پکوان پیش کیے جائیں گے ۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیراعظم مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا بھی اس ضیافت میں شرکت کریں گے ۔خاص بات یہ ہے کہ اگلے سال جنوری سے اقوام متحدہ کی فیڈریشن نے بین الاقوامی موٹا اناج سال کا اعلان کیا ہے ۔ ماناجارہا ہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں موٹے اناج کی دعوت کے انعقاد کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ جوار ہندوستان میں بڑے پیمانے پر پیدا ہوتا ہے ۔پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مودی نے ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ 2023 کو جوار کے بین الاقوامی موٹا اناج سال (انٹرنیشنل ملیٹس ایئر) کے طور پر منایا جائے گا۔ ہم ملیٹس سے پوشن ابھیان کو فروغ دے سکتے ہیں… لاکھوں لوگ G-20کے انعقادات، میٹنگوں اور پروگراموں کیلئے ہندوستان آئیں گے ، جہاں بھی ممکن ہوگا، ہم کھانے میں ان کے لئے باجرے سے بنی ہوئی کچھ ڈشیں بھی رکھیں گے ۔ جوشی نے کہا کہ مودی نے گانا مقابلہ، باجرے پر مضمون نویسی، اسکولوں اور کالجوں میں باجرے پر مباحثے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ موٹے اناج کے رواج کو ایک عوامی تحریک بنانا چاہئے ۔