موجودہ بورڈ کے وجود پر سوالیہ نشان، نئے بورڈ کی تشکیل کے امکانات کا جائزہ، غیر مسلم ارکان کی شمولیت لازمی
حیدرآباد۔/9 اپریل، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے وضع کردہ وقف ترمیمی قانون 2025 کے نفاذ کا کل سے آغاز ہوچکا ہے۔ کانگریس پارٹی نے وقف ترمیمی قانون کی سختی سے مخالفت کی ہے لیکن اب جبکہ قانون کے نفاذ کا ملک بھر میں آغاز ہوچکا ہے کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں قانون پر عمل آوری ایک چیلنج بن چکی ہے۔ کسی بھی مرکزی قانون کے نفاذ سے کوئی بھی ریاستی حکومت انکار نہیں کرسکتی لہذا تلنگانہ کی ریونت ریڈی حکومت نے وقف ترمیمی قانون پر قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل کے علاوہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون سے اس بارے میں رائے حاصل کی جارہی ہے تاکہ مسلم اقلیت سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل ہوسکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وقف ترمیمی قانون پر وسیع تر قانونی مشاورت کے بعد رپورٹ تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے وقف قانون کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل اور دیگر اُمور کے سلسلہ میں جو شرائط طئے کی گئی ہیں اُن کے مطابق تلنگانہ میں موجودہ وقف بورڈ کی جگہ نئے بورڈ کی تشکیل ناگزیر دکھائی دے رہی ہے۔ نئے وقف قانون میں صدرنشین اور تمام ارکان کو نامزد کیا جاتا ہے جبکہ سابقہ قانون کے تحت بعض زمرہ جات کے ارکان کا الیکشن کے ذریعہ انتخاب عمل میں آتا تھا۔ نئے قانون کے تحت صدرنشین کے خلاف پانچ سالہ میعاد کے دوران کوئی بھی تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جاسکتی۔ وقف بورڈ میں دو غیر مسلم ارکان کی شمولیت اور اوقافی تنازعہ کی یکسوئی کیلئے ضلع کلکٹرس کو زائد اختیارات دیئے گئے ہیں۔ قانون میں متولیوں کو اپنے دستاویزات حکومت کے آن لائن پورٹل پر اَپ لوڈ کرنے کیلئے مزید 6 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ ابتداء میں یہ مہلت صرف چھ ماہ کی مقرر کی گئی تھی لیکن بل کی منظوری سے قبل ترمیم کرتے ہوئے مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔ وقف بورڈ 11 ارکان پر مشتمل ہوگا اور تمام حکومت کی جانب سے نامزد رہیں گے۔ رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی، رکن کونسل ، متولی، بار کونسل، بہ اعتبار عہدہ جوائنٹ سکریٹری گورنمنٹ، مسلم اسکالرکے علاوہ میونسپلٹیز اور پنچایت سے دو ارکان اور پروفیشنل ایکسپرٹس کے طور پر دو ارکان کی شمولیت کی گنجائش ہے۔ اسلامک اسکالر اور مجالس مقامی کے 2 ارکان میں کم ازکم دو خواتین کی شمولیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 11 رکنی وقف بورڈ میں 2 ارکان کا تعلق نان مسلم طبقہ سے ہونا چاہیئے۔ بورڈ میں شیعہ، سنی، بوہرا، بی سی مسلم اور آغا خان طبقہ کی نمائندگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت اگر چاہے تو مسلم ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کے موجود ہونے کے باوجود غیر مسلم عوامی نمائندوں کو بورڈ میں شامل کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ حکومت کو اس بات کا اختیار حاصل رہے گا کہ وہ اگر چاہے تو صدرنشین کو میعاد سے قبل عہدہ سے برطرف کردے۔ نئے قانون کے تحت بورڈ کا صدرنشین بھی غیر مسلم ہوسکتا ہے۔ تلنگانہ میں رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی اور رکن کونسل کی 3 نشستیں مخلوعہ ہیں۔ تینوں ارکان کی میعاد کی تکمیل کے بعد دوبارہ ان کا انتخاب عمل میں نہیں آیا۔ نئے قانون کے تحت منتخب ارکان کو میعاد کی تکمیل تک برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ میں متولی زمرہ سے 2 اور بار کونسل زمرہ سے 2 ارکان منتخب ہوئے ہیں جبکہ نئے قانون میں دونوں زمرہ جات سے صرف ایک، ایک کی گنجائش ہے۔ موجودہ حالات میں متولی اور بار کونسل زمرہ کے دونوں ارکان کی برقراری یا علحدگی قانونی تنازعہ بن جائے گی۔ تلنگانہ میں فی الوقت 3 ارکان منتخب اور 5 نامزد کردہ ہیں جو نئے قانون کے برخلاف ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد حکومت موجودہ بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر کا تقرر کرسکتی ہے اور نئے بورڈ کی تشکیل کی مشاورت کا آغاز کیا جائے گا۔ نئے مرکزی قانون کے نفاذ کے بعد سے موجودہ وقف بورڈز کا وجود سوالیہ نشان بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔1