ملک میں ووٹ چوری سے کیا جمہوریت باقی رہے گی ؟

   

بی جے پی، الیکشن کمیشن سے ملی بھگت کے ذریعہ اقتدار کو حاصل کررہی ہے: اندرا کرن ریڈی

نرمل ۔ 20 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) لفظ چوری یا ڈکیتی پر نظم و نسق کو نشانہ بنایا جاتا تھا ، آج اس ملک میں ووٹ بھی چوری ہونے لگے ہیں۔ کیا اب جمہوریت باقی رہے گی؟ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر جنگلات اے اندرا کرن ریڈی نے نمائندہ سیاست جلیل ازہر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم عوام ہمیشہ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرلیتے ہیں کہ چلو کسی سیاسی قائد کی کامیابی سے ہمیں کیا لینا لیکن کانگریس کے قدآور قائد راہول گاندھی نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے سارے ملک کو بتا دیا کہ کرسی کے حصول کی خاطر بی جے پی الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے بار بار اقتدار حاصل کررہی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ رائے دہی ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ اس کے باوجود زندہ رائے دہندوں کے نام مردہ ووٹر لسٹ میں شامل کرتے ہوئے ووٹ کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ آج انڈیا اتحاد ایک بہت بڑی طاقت بن کر ملک کے عوام کو ان کے حق دلوانے سڑکوں پر اُتر آیا ہے۔ سارا ہندوستان دیکھ رہا ہے کہ ریاست بہار میں 65 لاکھ رائے دہندوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب کردینا، ایک چھوٹے سے مکان میں 80 رائے دہندوں کے نام شامل کردینا، کیا جمہوریت کی دھجیاں اُڑا دینے کے مترادف نہیں ہے۔ بی جے پی نے جھوٹے انتخابی وعدوں کے ذریعہ عوام کو بے وخوف بناکر 10 برس سے زیادہ حکومت کرتی آئی ہے۔ اندرا کرن ریڈی نے سوال کیا کہ کیا ہوا وہ 15 لاکھ روپئے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرنے کے وعدہ کا اور کیا ہوا بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ نوجوان سڑکوں پر ڈگریاں لے کر گھوم رہے ہیں اور مرکزی حکومت صرف چند ملک کے سرمایہ داروں کی کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے۔ اندرا کرن ریڈی نے کہا کہ آج راہول گاندھی کی عوامی مقبولیت سے وزیراعظم فکرمند ہیں۔ راہول گاندھی کا ہر قدم سیاسی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے شہادتوں کیساتھ عوام میں پیش کرنا ان کو بے چین کردیا جبکہ سارا ملک اب اس بات سے واقف ہوگیا ہے کہ جو بھی حق بیانی کیلئے سامنے آتا ہے، اس کو ای ڈی یا انکم کے ذریعہ ہراساں کرتے ہوئے مرکزی حکومت اپنا سیاسی سفر کررہی ہے تاہم اب ملک کا ہر شہری جاگ اُٹھا ہے۔