ملک میں پب جی سمیت چین کے 118 سے زائد موبائیل ایپ پر پابندی

,

   

نئی دہلی: ہند ۔ چین کشیدگی کے درمیان حکومت ہند نے ہندوستان بھر میں پب جی

(PUBG)

موبائیل سمیت زائد از 118 موبائیل ایپس پر پابندی عائد کردی ہے۔ لداخ میں چین کے ساتھ تازہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی کے درمیان حکومت نے موبائیل ایپس پر پابندی کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ یہ ایپس ہندوستان کی مقتدراعلیٰ یکجہتی اور قومی دفاع کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ جن ایپس پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں بائیڈرو، بائیڈرو ایکسپریس ایڈیشن ٹینسنٹ واچ لسٹ، فیسیو، وی چیاٹ ریڈنگ اور ٹینسنٹ ویوان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پب جی موبائیل اور پب جی موبائیل لائٹ کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق ان تمام ممنوعہ ایپس کا تعلق چین سے ہے۔ مرکز نے قبل ازیں ٹک ٹاک

(TikTok)

اور یوسی بروسر کے بشمول چین کے متعدد ایپس پر پابندی عائد کی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے جن118 موبائیل ایپس پر پابندی عائد کی ہے اس تعلق کہا جارہا ہیکہ یہ ایپس ہندوستان کے مقتدراعلیٰ اور یکجہتی کے علاوہ ہندوستانی دفاع سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کے بیان میں بتایا گیا ہیکہ ایپس پر پابندی ہندوستان کے مفاد میں کی گئی ہے۔ کینسنٹ ہولڈنگس لمیٹیڈس پب جی موبائیل دنیا کے پانچ سرفہرست اسمارٹ فون گیمس میں شمار کیا جاتا ہے جس کے 734 ملین ڈاون لوڈس کئے گئے ہیں۔ زائد از 50 ملین فعال پب جی پلیرس ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ روزانہ 13 ملین افراد اس پب جی گیم کو کھیلتے ہیں۔ وزارت الیکٹرانک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے دفعہ 69A کے تحت ان تمام ایپس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ گذشتہ سال پب جی کی بڑی مقبولیت کے درمیان وزیراعظم مودی نے طلبہ کے امتحانات کے دباؤ کے موقع پر یہ ریمارک کیا تھا اور ایک طالب علم کی ماں سے شکایت کی تھی کہ اس کا نوجوان بیٹا ’’یہ پب جی والا ہے کیا‘‘ جون میں حکومت نے ٹک ٹاک، علی بابا، یوسی بروسر اور کنسنٹ وی چیاٹ کے بشمول 59 موبائیل ایپس پر پابندی عائد کی تھی۔ وزارت الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اپنے آج کے اقدام کے تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسے ان موبائیل ایپس کے بیجا استعمال کے تعلق سے کئی شکایتیں وصول ہوئی ہیں۔