حکومت ہند سدرشن چینل پر پابندی لگائے: یونائٹیڈ مسلم فورم کا بیان
حیدرآباد۔ یونائٹیڈ مسلم فورم نے ملک میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے مسلمانوں کو ستائے جانے اور ان کو مشتعل کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور یو پی کے بارہ بنکی میں 100 سالہ قدیم مسجد کو حکومت کی جانب سے شہید کئے جانے کی مذمت کی ہے۔ فورم کے ذمہ داران مولانا محمد رحیم الدین انصاری ( صدر )، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری ، مولانا میر قطب الدین علی چشتی، مولانا شاہ محمد جما ل الرحمن مفتاحی، مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جناب ضیاء الدین نیر، جناب سید منیر الدین احمد مختار ( جنرل سکریٹری )، مولانا سید شاہ ظہیر الدین علی صوفی قادری، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی، مولانا سید تقی رضا عابدی، مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، مولانا عبدالغفار خان سلامی، مولانا زین العابدین انصاری، ڈاکٹر بابر پاشاہ ، ڈاکٹر مشتاق علی اور جناب محمد شفیع الدین ایڈوکیٹ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں عامۃ المسلمین سے کہا کہ ملک میں ایک طرف کورونا کا بحران شدت سے برقرار ہے مرکز و ریاستی حکومتیں اس بحران سے نمٹنے میں بے بس نظر آرہی ہیں، دواخانوں میں بستروں کی قلت، آکسیجن کی قلت، انجکشن اور دیگر ادویہ کی کالا بازاری عروج پر ہے۔ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ملک کے بڑے حصہ میں لاک ڈاؤن و کرفیو تحدیدات نافذ ہیں۔ اتر پردیش میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے جس کی مثال دریائے گنگا میں نعشیں پھینکی جارہی ہیں۔ ان حالات میں بارہ بنکی میں ایک صدی قدیم مسجد کو منہدم کرکے یوگی حکومت عوام کی توجہ اصل کورونا بحران سے ہٹانا چاہتی ہے۔ حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس پر حکم التواء دیا ہے لیکن عدالت کے احکام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یوگی حکومت نے اس مسجد کو شہید کردیا۔ یونائٹیڈ مسلم فورم اس واقعہ کی مذمت کرتا ہے اور اس مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنے ، خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے ایک زہریلے ٹی وی چیانل سدرشن نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور بدترین بربریت کی تائید کرتے ہوئے گرافک کے ذریعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام گنبد خضرا مدینہ منورہ کو راکٹ حملوں کے ذریعہ شہید کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ اس عمل کے ذریعہ نہ صرف ہندوستانی مسلمان بلکہ ساری دنیا کے ایک سو ستر کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ فورم حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس چیانل کو فوری بند کرے اور اس اینکر کے خلاف قانونی کارروائی کرے ، اس ناپکار اینکر نے ماضی میں کئی مرتبہ مذمومانہ حرکتیں کی ہیں لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ فورم کے ذمہ داران نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت ہند اس ٹی وی چیانل کی مذمومانہ حرکت پر کارروائی سے قاصر رہے تو مجبوراً اس معاملہ کو عالم اسلام کے بین الاقوامی فورم اور عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ ایسے وقت جبکہ تمام ہندوستانیوں کو کورونا کے خلاف مل کر جنگ کرنی ہے اس طرح کی سرگرمیوں سے ملک میں فرقہ وارانہ وائرس کو ہوا دی جارہی ہے جو قابل مذمت ہے۔