ملک میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش

   

خواتین کے مقابلہ مردوں میں زیادہ کیسس، پھیپھڑے اور منہ کے کینسر کیسس میں پانچوں برسوں میں اضافہ
حیدرآباد ۔16 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ہندوستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ پر ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ملک میں خواتین کے مقابلہ مردوں میں کینسر کے مرض کا زیادہ پتہ چلا ہے۔ 2020 اور 2025 کے درمیان کینسر کے مریضوں کی تعداد سے متعلق سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ مردوں میں پھیپڑے اور منہ کے کینسر کے واقعات زیادہ ہیں۔ پیٹ ، زبان اور پروسٹیٹ کے کینسر کے مریض بھی ہندوستان میں موجود ہیں اور ان کی تعداد میں پانچ برسوں کے دوران اضافہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد حضرات میں منہ اور پھیھپڑوں کا کینسر عام نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ قومی سطح پر کینسر کی روک تھام کیلئے شعور بیداری مہم کا آغاز کیا گیا لیکن علاج کے معاملہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی تشخیص مرض پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹرس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی غیر متوقع تبدیلی یا تکلیف کی صورت میں فوری ڈاکٹرس سے رجوع ہوں تاکہ کینسر کا بروقت پتہ چلایا جاسکے۔ غذاؤں کے استعمال میں بے احتیاطی اور لائف ڈسپلن کے بجائے من مانی زندگی بسر کرنے کے نتیجہ میں خواتین کے مقابلہ مرد زیادہ تر امراض کو دعوے دے رہے ہیں ۔ 2020 میں ہندوستان میں پھیپھڑے کے کینسر کے مریضوں کی تعداد 71788 درج کی گئی تھی جو 2025 میں بڑھ کر 81219 ہوچکی ہے۔ 2020 میں منہ کے کینسر کے کیسس 57380 درج کئے گئے جو 2025 میں بڑھ 64519 ہوچکے ہیں۔ کئی ریاستوں نے کینسر سے بچاؤ کیلئے ماہرین کو حکومت کا مشیر مقرر کیا ہے اور سرکاری سطح پر کینسر کے علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے گئے۔1