ملک میں ہندی کو مسلط کرنے کا منصوبہ خطرناک ہوگا

   

ششی دھر ریڈی کا وزیر داخلہ امیت شاہ کو مکتوب، سہ لسانی فارمولے کو برقرار رکھنے کی اپیل
حیدرآباد۔ 18 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر اور سینئر کانگریس قائد ایم ششی دھر ریڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مکتوب روانہ کیا اور ملک بھر میں ہندی زبان کو مسلط کرنے کے منصوبہ کی مخالفت کی ۔ پارٹی ترجمان جی رنجن کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ششی دھر ریڈی نے کہا کہ ملک بھر میں ہندی کے استعمال کو لازمی بنانے سے متعلق امیت شاہ کا بیان افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں وزیر داخلہ کے بیان کے خلاف احتجاج شروع ہوچکا ہے ۔ کرناٹک اور ٹاملناڈو میں ہندی کے خلاف ایجی ٹیشن کی تیاری ہورہی ہے ۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ اس طرح کے متنازعہ بیانات سے وزیر داخلہ کو گریز کرنا چاہئے اور انہیں سابق کے تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ لوک سبھا میں بی جے پی کو واضح اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ امیت شاہ من مانی بیانات جاری کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلہ کے بارے میں اتفاق رائے ضروری ہے لیکن بی جے پی دیگر جماعتوں سے مشاورت کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دفعہ 370 کی برخواستگی کا یکطرفہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ بی جے پی سیاسی اتفاق رائے پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں کو مرکز کی جانب سے فنڈس کے الاٹمنٹ کے سلسلہ میں پہلے ہی شکایت ہے۔ بہار ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور اترپردیش کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اگر لوک سبھا نشستوں کا از سر نو تعین کیا جائے تو جنوبی ریاستوں کا نقصان ہوگا۔ 2011 مردم شماری کی بنیاد پر اگر لوک سبھا کی نشستیں دوبارہ الاٹ کی جاتی ہیں تو پانچ ریاستوں کیرالا ، کرناٹک ، ٹاملناڈو ، آندھراپردیش اور تلنگانہ 33 نشستوں سے محروم ہوجائیں گے جبکہ ان پانچ ریاستوں میں فی الوقت 129 لوک سبھا نشستیں ہیں

انہوں نے کہا کہ ہندی ریاستوں کو زائد نشستوں کے الاٹمنٹ سے تنازعہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ شمال اور جنوب کو تقسیم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور ملک کی یکجہتی کو چیلنج پیدا ہوگا ۔ انہوں نے اس طرح کے سنگین اور حساس مسائل پر سیاسی اتفاق رائے کو ضروری قرار دیا ۔ ششی دھر ریڈی نے یاد دلایا کہ سابق میں سوویت یونین اور ایسٹرن یوروپین یونین ٹوٹ گئے تھے اور کئی چھوٹے ممالک وجود میں آگئے ۔ ہمیں پاکستان کی تقسیم اور بنگلہ دیش کے قیام کو بھولنا نہیں چاہئے ۔ انہوں نے امیت شاہ سے درخواست کی کہ ہندی کو مسلط کرنے کے مسئلہ کو یہیں پر ختم کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندی کو مسلط کرنا دراصل آر ایس ایس ایجنڈہ کا حصہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں میں انتخابات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ ملک میں سہ لسانی فارمولہ واحد حل ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوںکو یہ تیقن دینا پڑے گا کہ وہاں ہندی کو مسلط نہیں کیا جائے گا ۔