عدالت کے ذریعہ تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون کے نفاذ کی تجویز
حیدرآباد۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذکی سمت ایک اور پیشرفت کی جانے لگی ہے! کیا ہندوستان میں عدالت کے ذریعہ تمام شہریوں کے لئے ایک قانون کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں !سپریم کورٹ نے تمام ہندوستانیوں کیلئے طلاق کے سلسلہ میں ایک قانون کی تدوین کے سلسلہ میں داخل کی گئی درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو ایک نوٹس جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اندرون تین ماہ اس سلسلہ میں جواب داخل کیا جائے ۔ جسٹس ایس اے بوبڈے‘ جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنین نے لاء کمیشن کو تمام شہریوں کے لئے طلاق کے ایک قانون کی تیاری اور ایک ہی طریقہ کار کے سلسلہ میں ہدایت کی درخواست کی سماعت کے دوران اس مسئلہ پر مرکزی حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی جانب سے مختلف قوانین کے تحت طلاق کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے اپنے پرسنل لاء کے تحت طلاق دی جاتی ہے جبکہ ہندو ‘ جین‘ بدھمت کے ماننے والوں کے علاوہ سکھوں کی جانب سے طلاق کے لئے ہندو طریقہ کار اختیارکیا جاتا ہے اور بین مذہبی شادیاں کرنے والوں کی جانب سے اسپیشل میریج ایکٹ 1956 کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کردہ درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ طلاق سے متعلق قوانین میں نہ جنسی مساوات ہیں اور نہ ہی مذہبی مساوات پائے جاتے ہیں اسی لئے انہیں سب سے کے مساوی اور قابل قبول بنانے کے ساتھ ساتھ جنسی مساوات کو یقینی بنانے والے ہونا چاہئے ۔ ہندو‘ سکھ‘ بدھ مت ‘ جین مذاہب کے ماننے والوں کی جانب سے ہند میریج ایکٹ 1956 کا استعمال کیا جا تا ہے جبکہ عیسائی ‘ پارسی اور مسلمانوں کے اپنے پرسنل لاء کے مطابق طلاق کا فیصلہ کیا جاتا ہے جو کہ مذہبی مساوات کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کی جانے والی اس درخواست میں طلاق سے متعلق قوانین کو فرسودہ اور غیر ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آزادی کے بعد 73 سال گذر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود طلاق کے مسئلہ پر جس سے دونوں مرد اور خواتین بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں ان کیلئے ایک مساوی قانون موجود نہیں ہے اسی لئے یہ درخواست داخل کی جا رہی ہے۔مجموعی اعتبار سے اس قانون کے ذریعہ طلاق کی وجوہات کو یکساں کرنے کا مطالبہ کیا جا رہاہے ۔ درخواست میں طلاق کی وجوہات اور بنیادوں کے سلسلہ میں کئی ایک حوالہ دیئے گئے ہیں اور ان حوالوں کے ساتھ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ طلاق کی وجوہات کو غیر مذہبی اور جنسی اعتبار سے تفریق کے بغیر متعین کیا جانا چاہئے ۔
