ملک میں 10 افراد سے زائد کے اجتماع پر پابندی عائد کی جائے

   

’لانسیٹ ‘ نامی ادارہ کی رپورٹ پر کورونا ٹاسک فورس کی جانب سے حکومت کو سفارش
حیدرآباد۔ ملک میں 10 افراد سے زیادہ کے اجتماع پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ لانسیٹ نامی ادارہ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر ہندستان میں کورونا وائرس کی صورتحال پر کام کرنے والی ٹاسک فورس نے حکومت کو روانہ کردہ سفارش میں کہا کہ وہ فوری اثر کے ساتھ لانسیٹ کی سفارشات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کرتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ میں کمی کے لانے کی کوشش کریں۔لانسیٹ کی جانب سے ہندستان میں کورونا وائرس کے معاملوں میں ہونے والے اضافہ کو روکنے کیلئے فوری سخت گیر اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر ہندستان میں فوری اثر کے ساتھ 10 افراد سے زائد کے اجتماع پر پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے توایسی صورت میں حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ان ریاستوں میں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ان ریاستوں میں فوری طور پر اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی جا نے لگی ہے اور کورونا وائرس ٹاسک فورس کے عہدیداروں نے لانسیٹ کی جانب سے موصول ہونے والی سفارشات کو روبہ عمل لانے کے لئے مرکزی وزارت صحت کے علاوہ ریاستی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو سفارشات روانہ کرتے ہوئے انہیں ان سفارشات کا جائزہ لینے کے علاوہ لانسیٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے خدشات کو نظر میں رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی تاکید کی ہے۔ لانسیٹ کی جانب سے کی جانے والی سفارشات کے متعلق کہا گیا ہے کہ اگر ہندستان بھر میں فوری اثر کے ساتھ 10 افراد سے زائد کے اجتماع پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ملک بھر میں وباء پھوٹ پڑے گی اور صورتحال پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ آئی سی ایم آر کے بعد اب لانسیٹ کی جانب سے کورونا وائرس کی وباء کے ہوا کے ذریعہ منتقلی اور دوسروں کو متاثر کرنے کے عمل کو قبول کئے جانے کے ساتھ ساتھ یہ کہا جا رہاہے کہ یہ وائرس اب وزن کے اعتبار سے کافی ہلکا ہوچکا ہے اسی لئے ہوا میں اس کا وجود کافی دور تک برقرار رہنے لگا ہے جو کہ ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کررہا ہے۔ اسی لئے بڑے اجتماعات کے علاوہ بازاروں میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے پابندی کی سفارش کی جا رہی ہے۔