شاہین کالج کی 43ویں برانچ کا ٹولی چوکی میں افتتاح، اے کے خان، انیس الدین اور ڈاکٹر عبدالقدیر کی تقاریر
حیدرآباد۔ 14؍اکتوبر( پریس نوٹ) ۔ معاشرے کی اصلاح اور اسے صحت مند بنانے کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کی صحیح ڈھنگ سے تربیت کی جائے۔ نویں تا بارہویں جماعت کے طلبہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے کیوں کہ یہی عمر ان کے بگڑنے یا سنورنے کی ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے 12؍اکتوبر کی شام شاہین کالج کی 43ویں برانچ کے ٹولی چوکی میں افتتاح کے موقع پر کیا۔ جناب عبدالقیوم خان آئی پی ایس ریٹائرڈ مشیر برائے اقلیتی امور حکومت تلنگانہ افتتاح کی رسم انجام دی۔ جس کے بعد منعقدہ تقریب کی صدارت جناب سید انیس الدین سی ای او سہائتا ٹرسٹ و صدر نشین مجلس استقبالیہ دو روزہ تقاریب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم (تعمیر ملت) نے کی۔ شہ نشین پر بانی و چیرمین شاہین گروپ ڈاکٹر عبدالقدیر، انیل پاٹیل کے علاوہ کارپوریٹ شیخ پیٹ راشد فراز موجود تھے۔ جناب اے کے خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی ملی اور تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاہین ادارے اخلاق اور تہذیب کے گہوارے ہیں جہاں ہندوستانی قوم کی نئی نسل بلالحاظ مذہب و عقیدہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی کامیابی کا راز مضبوط قوت ارادی، کچھ کرنے کا جذبہ، منصوبہ سازی اور اس پر عمل کرنے صلاحیت، ٹیم ورک اور سسٹم میں وقتاً فوقتاً ہونے والی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت ہے۔ جناب اے کے خان نے کہا کہ دینی اور عصری تعلیم کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیوں کہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہے۔ انہوں نے عصری تعلیم سے نابلد حفاظ کرام کو پروفیشنل کورسس میں داخلہ کا اہل بنانے کے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر کی جستجو اور ان کی عملی اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک حافظ قرآن سنجیدگی کے ساتھ محنت کرے تو سیول سرویسس میں اس کامیابی ناممکن نہیں۔ جناب سید انیس الدین نے کہا وہ خود کئی تعلیمی ادارے چلارہے ہیں۔ اور تعلیمی تحریک انہیں ڈاکٹر عبدالقدیر اور شاہین اداروں سے ملی ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے شاہین تعلیمی اداروں کی 32سالہ جدوجہد پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ایک کمرہ اور ایک ٹیچر سے شاہین ایک عظیم کیمپس میں تبدیل ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ شاہین صرف تعلیمی ادارے کا نام نہیں بلکہ یہ ہماری تہذیب کے احیاء کی تحریک ہے۔ کیمپس میں طلبہ کو آٹو موبائل اور موبائل کے استعمال کی اجازت نہیں۔ اور نہ ہی مخلوط طرز تعلیم کا رواج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین کیمپس اور ہاسٹلس میں غیر مسلم برادران وطن اپنی لڑکیوں کی تعلیم، تربیت اور ان کی مکمل سیکوریٹی کے لئے داخلہ دلاتے ہیں۔ شاہین کیمپس ایک مکمل ہندوستان عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس طرح سے کریں کہ وہ نہ صرف ان کا اثاثہ ثابت ہوں‘ بلکہ ان کا نجات کا ذریعہ بھی بنے۔ ڈاکٹر عبدالقدیم نے بتایا کہ حفاظ کرام کو عصری تعلیم اور انہیں پروفیشنل کورسس میں داخلہ کی تیاری کے لئے ہندوستان کی مختلف علاقوں میں 13کیمپس ہیں۔ انہوں نے مدارس میں بھی کیمپس قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مفتی عبدالماجد نے شکریہ ادا کیا اور ان کی دعائوں پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔