شیخ اکبر کو جمعیۃ العلماء کے ذمہ داروں کی تائید، پدیاترا میں عوامی مسائل سے واقفیت
حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) لوک سبھا حلقہ حیدرآباد کے تحت آنے والے اسمبلی حلقہ ملک پیٹ میں طویل عرصہ کے بعد کانگریس کے حق میں لہر دکھائی دے رہی ہے۔ ملک پیٹ سابق میں لوک سبھا حلقہ نلگنڈہ کا حصہ رہا جس کی نمائندگی سی پی آئی کے قومی رہنما ایس سدھاکر ریڈی کرچکے ہیں۔ اِس حلقہ میں کانگریس کے علاوہ بائیں بازو جماعتوں سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کا خاصہ اثر ہے۔ دونوں پارٹیاں اسمبلی چناؤ میں کانگریس امیدوار شیخ اکبر کی تائید کررہے ہیں۔ مقامی رائے دہندوں کا ماننا ہے کہ طویل عرصہ سے مجلس کی نمائندگی والے اِس حلقہ میں توقع کے مطابق ترقیاتی اور فلاحی کام انجام نہیں دیئے گئے۔ تعلیم یافتہ رائے دہندوں پر مشتمل اِس حلقہ میں آج بھی کئی سلم علاقے شہر کی خوبصورتی کے لئے بدنما داغ کی طرح ہیں۔ مجلس نے ہمیشہ جذباتی نعروں اور ووٹ کی تقسیم کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی۔ ہر الیکشن میں مجلسی قیادت علاقہ میں ترقی اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ کرتی ہے لیکن 5 سال میں کوئی پیشرفت نہیں کی جاتی۔ چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کو تعلیمی اداروں کے مرکز میں تبدیل کرنے کا وعدہ گزشتہ 10 برسوں میں جوں کا توں برقرار ہے۔ حکومت نے چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کو منتقل کرتے ہوئے اقلیتوں کی تعلیمی اور فنی شعبہ جات میں ترقی کے لئے ادارے قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کانگریس امیدوار شیخ اکبر جو بنیادی طور پر صنعتکار ہیں، اُنھوں نے غریبوں کی بھلائی کے لئے علیحدہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ کانگریس کی 6 ضمانتوں کے علاوہ شیخ اکبر اپنے طور پر ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کا عہد کرچکے ہیں۔ روزانہ عام جلسوں اور پدیاترا کے ذریعہ وہ عوام سے ملاقات کرتے ہوئے رائے دہندوں سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے اپنے ترقیاتی منصوبے سے واقف کرارہے ہیں۔ اِسی دوران جمعیۃ العلمائے ہند (محمود مدنی گروپ) کے مقامی ذمہ داروں نے کانگریس امیدوار شیخ اکبر کی تائید کا اعلان کیا۔ جمعیۃ کے ذمہ داروں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے ملک میں قوم و ملت کے مسائل کی یکسوئی کا وعدہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ہے۔