کانگریس امیدوار شیخ اکبر کی مہم عروج پر ، پد یاترا اور عام جلسوں کے ذریعہ رائے دہندوں سے ربط
حیدرآباد ۔24۔نومبر (سیاست نیوز) کسی بھی پارٹی کو شکست کا خوف لاحق ہوجاتا ہے تو اس کے قائدین تشدد پر اتر آتے ہیں۔ مخالفین کو ہراساں کرنا اور پولیس کے ذریعہ مقدمات کا خوف دلاکر انتخابی مہم میں رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے ۔ حیدرآباد کے پرانے شہر میں اس طرح کے حربے نئے نہیں ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ملک پیٹ اسمبلی حلقہ میں کانگریس کے حق میں قائدین اور کیڈر نے مقامی جماعت کے خوف کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی امیدوار شیخ اکبر کی عوامی رابطہ مہم کو جاری رکھا ہے ۔ گزشتہ 3 اسمبلی چناؤ میں شائد یہ پہلا موقع ہے جب مجلس کو ملک پیٹ اسمبلی حلقہ میں سخت مقابلہ درپیش ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں، سرکاری ملازمین اور خواتین کی جانب سے کانگریس کے حق میں تائید کا یقین دلایا جارہا ہے ۔ کانگریس امیدوار کے لئے اے آئی سی سی کے مبصرین بھی انتخابی مہم میں شامل ہوچکے ہیں۔ پد یاترا اور عام جلسوں کے ذریعہ عوام تک ترقیاتی اور فلاحی ایجنڈہ کو پیش کرنے کی مہم کامیاب ثابت ہوئی ہے ۔ سی پی آئی کے علاوہ تحریک مسلم شبان اور مقامی سماجی تنظیموں کی جانب سے کانگریس امیدوار شیخ اکبرکی تائید کا اعلان کیا گیا ۔ کانگریس امیدوار کا انتخابی جلسہ چنچل گوڑہ جونیئر کالج کے قریب منعقد ہوا جس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ صدر تحریک مسلم شبان محمد مشتاق ملک ، سماجی کارکن سید سلیم ، کمیونسٹ لیڈر ایس اے منان اور دوسروں نے خطاب کرتے ہوئے عوام کو یقین دلایا کہ علاقہ کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے کانگریس حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ کانگریس کے مبصرین اعجاز علی خاں ، امجد علی خاں اور شاہد علی خاں نے انتخابی مہم کی نگرانی کی ہے۔ شیخ اکبر نے بلدی حلقہ چھاونی کی ترقی کیلئے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اس علاقہ میں غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام کو نجات دلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی جماعت کے غنڈہ عناصر کانگریس کارکنوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے سرکاری اور خانگی سطح پر تعلیمی اور تجارتی ادارے قائم کئے جائیں گے۔ ملک پیٹ میں کانگریس کی انتخابی مہم کو عوامی تائید نے سیاسی مبصرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ اگر کانگریس کی مہم اسی طرح کامیابی کے ساتھ جاری رہی تو ملک پیٹ کا نتیجہ کانگریس کے حق میں ہوسکتا ہے۔