ملک کا قانون سب کیلئے برابر، کسی کو بچایا نہیں جائے گا

,

   

تفتیشی ادارے بے خوف اور غیر جانبداری سے اپنا کام کرنے میں مصروف: بی جے پی
نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق صدر راہول گاندھی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے نوٹس ملنے پر کانگریس کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آج کہا کہ ملک کا قانون سب کے لئے ایک ہے ۔ تفتیشی ادارے بے خوف اور غیر جانبداری سے کام کر رہے ہیں اور کسی کو بچایا نہیں جائے گا۔ بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی حکومت کی واضح پالیسی ہے ، بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ ہندوستان میں اس پالیسی سے بڑی تبدیلی آئی ہے ۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) ہو یا ای ڈی، تمام تحقیقاتی ایجنسیاں اپنا کام آزادانہ، غیر جانبداری سے کر رہی ہیں۔ بھاٹیہ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ملک میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اگر تفتیشی ادارے بے خوفی اور غیر جانبداری سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں تو بدعنوان افراد کو درد ہورہا ہے ۔ ملک میں ایک وقت تھا جب گاندھی خاندان یو پی اے کے دور حکومت میں تحقیقاتی ایجنسیوں – ای ڈی اور سی بی آئی کے سربراہوں کو طلب کرکے ہدایات دیتا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ نے تفتیشی ایجنسی کو ‘پنجرے کا طوطا’ قرار دیا تھا۔ آج اسی پنجرے کا طوطا کھلا باز بن کر بدعنوان افراد کو سبق سکھا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بچایا نہیں جائے گا اور بدعنوانی قبول نہیں کی جائے گی۔ ملک کا قانون سب پر یکساں نافذ ہوگا۔ نیشنل ہیرالڈ کیس کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان نے کانگریس سے پوچھا کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف دفعہ 420 کے تحت دھوکہ دہی کا مجرمانہ مقدمہ چل رہا ہے ۔ محترمہ سونیا گاندھی اور مسٹر راہول گاندھی نے دہلی ہائی کورٹ جاتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ نیشنل ہیرالڈ اور اے جے ایل اور ینگ انڈین سے متعلق کیس کو منسوخ کیا جائے ۔بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ایسوسی ایٹڈ جرنل نامی کمپنی ینگ انڈین کمپنی کو 90 کروڑ روپے کا قرض دیتی ہے ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ درست نہیں ہے کہ نومبر 2010 میں جب مرکز میں یو پی اے کی حکومت تھی، یہ کمپنی بنائی گئی تھی تاکہ ایسوسی ایٹڈ جرنل کمپنی (اے جے ایل) کمپنی کو ینگ انڈین کمپنی کو منتقل کر دیا جائے ۔ ینگ انڈین کمپنی میں 38 فیصد مسٹر راہول گاندھی اور 38 فیصد محترمہ سونیا گاندھی کی ملکیت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ ینگ انڈین کمپنی 2010 میں بنی تو تین ماہ کے اندر دو ہزار کروڑ کے اثاثوں کی منتقلی مکمل ہو گئی۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ گاندھی خاندان کو ان 2 ہزار کروڑ روپے کی ملکیت حاصل کرنے کی جلدی تھی؟ آخر ایسی کیا جلدبازی تھی؟ بھاٹیہ نے سوال کیا کہ محترمہ سونیا گاندھی جی کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مئی 2019 میں ای ڈی نے 65 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے تھے ۔ آپ کے پاس وقت تھا، آپ عدالت گئے تھے ۔ کیا عدالت نے کہا کہ اسے غلط طریقے سے ضبط کیا گیا؟ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے دسمبر 2017 میں ایک آرڈر پاس کیا کہ مسز سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو اس گھپلہ سے کل 414 کروڑ روپے کا منافع ہوا اور انہیں 250 کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا۔