کے سی آر کی سرگرمیوں سے مخالف بی جے پی ووٹ تقسیم ہوگا ، تلنگانہ سی پی ایم سکریٹری کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ سی پی ایم کے سکریٹری ٹی ویرا بھدرم نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں سے مقابلہ کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے بی جے پی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے ٹی آر ایس کی جانب سے تیار کردہ حکمت عملی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر مخالف بی جے پی ووٹ کو تقسیم کرتے ہوئے راست طور پر بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس مسئلہ پر آل انڈیا کونسل کے اجلاس میں بھی تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ سی پی ایم کے اسٹیٹ سکریٹری نے کہا کہ متبادل اتحاد تشکیل دینے کے معاملے میں چیف منسٹر کے سی آر نے آر جے ڈی کے قائد تیجسوی یادو کو حیدرآباد طلب کر کے بات چیت کی مگر میڈیا میں یہ خبریں آئی کہ آر جے ڈی کے قائد نے کانگریس کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر بی جے پی محاذ کی ملک میں ضرورت ہے اور وہ کانگریس سے ہی ممکن ہے ۔ ٹی ویرا بھدرم نے تلنگانہ بی جے پی کے ہیڈکوارٹر نامپلی کو دہشت گردوں کی دھمکی وصول ہونے کی قیاس آرائیوں کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر ایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعہ تلنگانہ میں بی جے پی کو مستحکم ہونے کا موقع فراہم کررہے ہیں ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او 317 کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس جی او کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کئی سرکاری ملازمین نے اپنی قیمتی زندگیوں سے محروم ہوگئے ۔ ضرورت پڑنے پر سوپر نیومیری پوسٹ ایجاد کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ’ اپنا گاوں اپنا اسکول ‘ اسکیم کے نام پر 3 ہزار کروڑ روپئے کا بیجا استعمال کرنے کی کوشش کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا ۔ انگلش میڈیم اسکولس قائم کرتے ہوئے مادری زبان کی تعلیم کو جاری رکھنے پر زور دیا ۔ دولت مند ریاست کو مقروض کردینے کا دعویٰ کیا ۔۔ ن