’ملک کو عالمی فوجی طاقت بننے جدید ٹکنالوجی میں خود انحصاری کی ضرورت‘

,

   

آج ہندوستان کو اپنی سرحدوں پر دوہرے خطرات کا سامنا ہے، ’آتم نربھر بھارت‘ کے تحت راج ناتھ سنگھ کا بیان

لکھنٔو: خود انحصاری ایک اختیار نہیں بلکہ اب ایک ضرورت بن گئی ہے ، کیونکہ آج ہندوستان کو اپنی سرحدوں پر دوہرے خطرات کا سامنا ہے جس میں تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں جنگ کی نئی جہتیں ابھر رہی ہیں۔ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے یہ بات 17 جون 2023 کو لکھنؤ، اتر پردیش میں سابق فوجیوں اور ایک میڈیا تنظیم کی پہل، اسٹرائیو تھنک ٹینک کے زیر اہتمام ‘آتم نربھر بھارت’ پر دفاعی بات چیت کے دوران کہی۔ وزیر دفاع نے ایک مضبوط اور خود انحصار فوج کو ایک خود مختار قوم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جو سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ ملک کی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتی ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ مسلح افواج غیر ملکی ہتھیاروں اور ساز و سامان پر منحصر نہ ہوں اور اس بات پر زور دیا کہ اصل طاقت ‘آتم نربھر’ ہونے میں ہے ، خاص طور پر جب ہنگامی صورت حال پیدا ہو۔ راج ناتھ سنگھ نے جنگ کی نوعیت میں ٹیکنالوجی کے ذریعہ لائی گئی اہم تبدیلی کے بارے میں اپنی بصیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دیسی ساختہ جدید ترین ہتھیاروں اور پلیٹ فارموں کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو مسلح افواج کو نئے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار اور لیس کریں گے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ آج زیادہ تر ہتھیار الیکٹرانک نظام پر مبنی ہیں، جو دشمن کو حساس معلومات ظاہر کر سکتے ہیں۔ چونکہ درآمد شدہ آلات کی کچھ حدود ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں اس سے آگے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہتھیار؍ سامان ہمارے فوجیوں کی بہادری کی طرح اہم ہیں۔ اگر ہندوستان عالمی سطح پر ایک فوجی طاقت بننا چاہتا ہے تو دفاعی تیاری میں خود انحصار ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔