مودی کا یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب
نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم کو خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے آنے والے انتخابات کے پیش نظر یونیفارم سیول کوڈ کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے یکساں سیول کوڈ پر کئی بار بحث کی ہے۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ یہ مانتا ہے کہ سیول کوڈ فرقہ وارانہ ہے۔ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے والے قوانین کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں سیکولر سیول کوڈ ہو۔ ہم نے کمیونل سیول کوڈ میں 75 سال گزارے ہیں اب ہمیں سیکولر سیول کوڈ کی طرف بڑھنا ہے۔ تب ہی ہمیں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے آزادی ملے گی۔مودی نے کہا کہ خاندان پرستی اور ذات پرستی سے جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مودی نے بنگلہ دیش میں تشدد کا بھی ذکر کیا۔ مودی نے کہا کہ کرپشن کیخلاف میری جنگ جاری رہے گی جبکہ ون نیشن ون الیکشن کے علاوہ دیگر کئی امور پر بھی مودی نے بات کی۔
بھارت کے مستقبل پر مبنی کئی اہداف کا تذکرہ، مختلف شعبوں میں ترقی کا عہد
صنعتی مینوفیکچرنگ کا مرکز۔ انڈیا میں ڈیزائن کرو، دنیا کیلئے ڈیزائن کرو۔ طبی تعلیم کی توسیع۔ وزیراعظم مودی کا لال قلعہ سے خطاب
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنی 78ویں یوم آزادی کی تقریر میںایسے متعدد مستقبل پر مبنی اہداف کے ایک سلسلے کا خاکہ پیش کیا جن کا مقصد بھارت کی شرح ترقی کی سمت کا تعین، اختراع کو آگے بڑھا نے اور ملک کو مختلف النوع شعبوں میں ایک عالمی قائد بنانے سے ہے ۔دہلی کے تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم کے خطاب کے کلیدی نکات میں درج ذیل باتیں شامل ہیں: زندگی بسر کرنے کو سہل بنانے کا مشن: وزیر اعظم مودی نے مشن موڈ انداز میں زندگی بسر کرنے کے سلسلے میں اپنی تصوریت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں منظم تخمینوں اور بنیادی ڈھانچہ اور خدمات میں اصلاحات کے توسط سے زندگی کی عمدگی میں اضافہ لانے پر اظہار خیال کیا۔ نالندہ کے جوش و جذبے کا احیاء : وزیر اعظم نے قدیم نالندہ یونیورسٹی کے جذبے کے احیاء کی خواستگاری کی جس کے توسط سے ہندوستان کو اعلیٰ پیمانے کی تدریس اور تحقیق کو فروغ دے کر ایک عالمی تعلیمی مرکز کی حیثیت عطاکرنا ہو۔ 2024 میں نالندہ یونیورسٹی کا افتتاح اسی مقصد سے عمل میں آیا ہے ۔ ہندوستان میں تیار کیے گئے چپ سیمی کنڈکٹر کی تیاری کا عمل: وزیر اعظم مودی نے سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں ایک عالمی قائد کی حیثیت حاصل کرنے کے تئیں ہندوستان کی عہد بندگی کا خاکہ پیش کیا جس کا مقصد درآمدات پر انحصار کو کم کرنا اور تکنالوجی سے متعلق خود کفالت میں اضافہ لانا ہے ۔ اسکل انڈیا: بجٹ 2024 کا حوالہ دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے ہندوستان کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے مقصد سے حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ سنگ میل پہل قدمیوں کو اجاگر کیا تاکہ اسے پوری دنیا کا ہنرمندی کا دارالحکومت بنایا جا سکے ۔ صنعتی مینوفیکچرنگ کا مرکز: وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کو ایک عالمی مینوفیکچرنگ ہب میں بدلنے ، اس کے وسیع تر وسائل اور ہنرمند افرادی قوت کو بروئے کار لانے کے سلسلے میں اپنی تصوریت کا خاکہ پیش کیا۔ ہندوستان میں ڈیزائن کرو، اور دنیا کیلئے ڈیزائن کرو: وزیر اعظم نے اندرونِ ملک دستیاب ڈیزائن کی صلاحیتوں کی ستائش کی اور گذارش کی کہ ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جو گھریلو اور بین الاقوامی منڈی کی ضروریات کی تکمیل کر سکیں۔ عالمی گیمنگ منڈی میں قائد: وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کو میڈ ان انڈیا گیمنگ مصنوعات بنانے کے سلسلے میں اپنی مالامال قدیم وراثت اور ادب سے استفادہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پیشہ واران کو عالمی گیمنگ منڈی کی قیادت کرنی چاہئے ۔نہ صرف کھیل کے ذریعہ بلکہ کھیلوں کی فراہمی کے معاملے میں بھی ایسا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی کھیلوں کو پوری دنیا میں اپنا امتیاز قائم کرنا چاہئے ۔ سبز روزگار اور سبز ہائیڈروجن مشن : وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے ذریعہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں کی جا رہی کوششوں کے تحت سبز روزگاروں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی توجہ اب سبز نمو اور سبز روزگاروں پر مرکوز ہے جو روزگار کے مواقع فراہم کریں گے ۔ ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی تحفظ میں بھی اپنا تعاون دیں گے ۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان نے سبز ہائیڈروجن پیداوار کے معاملے میں عالمی قائد بننے کی عہد بندگی کر رکھی ہے اور اس کے تحت اسے ماحولیاتی تحفظ اور قابل احیاء توانائی شعبوں میں ہمہ گیر روزگار مواقع بہم پہنچانے ہیں۔
سوَستھ بھارت مشن: وزیر اعظم نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے ہندوستان کو لازمی طو رپر سوَستھ بھارت کے راستے پر مستحکم طریقے سے قدم بڑھانا ہوگا، جس کا آغاز راشٹریہ پوشن ابھیان کے ساتھ ہو چکا ہے ۔ ریاستی سطح کی سرمایہ کاری مسابقت: وزیر اعظم نے ریاستی حکومتوں کو تلقین کی کہ وہ ایسی واضح پالیسیاں وضع کریں جن کے ذریعہ سرمایہ کاریاں راغب ہو سکیں ، انہیں اچھی حکمرانی کی یقین دہانی کرنی چاہئے اور قانون و انتظام کی صورتحال اطمینان بخش رہنے کی یقین دہانی کرانی چاہئے ۔ ہندوستانی معیارات جو عالمی امتیازات کے حامل ہوں: وزیر اعظم مودی نے عمدگی کے تئیں اس کی عہد بندگی کی شناخت کے طور پر ہندوستان کی خواہش مندی کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیارات کو بین الاقوامی امتیازی نشانات تک پہنچنے کا خواستگار ہونا چاہئے ۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہداف: وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان نے 2030 تک 500 گیگا واٹ کے بقدر قابل احیاء توانائی صلاحیت حاصل کرنے کا اولوالعزم ہدف مقرر کر رکھا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان جی 20 ممالک کی صف میں وہ واحد ملک رہا ہے جس نے پیرس معاہدے کے سلسلے میں اپنے اہداف حاصل کیے ہیں۔ طبی تعلیم کی توسیع : وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں میں میڈیکل کالجوں میں 75000 نئی نشستوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے ، جس کا مقصد ملک کی طبی تعلیم کی صلاحیت میں اضافہ لانا اور حفظانِ صحت پیشہ واران کی فزوں تر طلب کی تکمیل کرنا ہے ۔ سیاست میں نوجوانوں کی شراکت داری: وزیر اعظم مودی نے سیاست میں ایک لاکھ کے بقدر نوجوانوں کو لانے کا نعرہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ان لوگوں کو جن کے کنبوں کا سیاست کی تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ہے ، آگے لایا جانا چاہئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس پہل قدمی کا مقصد کنبہ پرستی اور ذات پرستی کی برائیوں کا خاتمہ اور ہندوستان کی سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے ۔