پاکستان اور چین کی ملی بھگت کو ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بے نقاب کیا تھا : کانگریس ترجمان جے رام رمیش
نئی دہلی 29 اگست (یواین آئی) کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ چین ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں بگاڑ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور ہندوستان کو اپنی شرائط پر تعلقات بہتر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو یہاں ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو جاپان کے بعد چین کا دورہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دورہ بہت اہم ہے لیکن اس دوران پاک۔چین گٹھ جوڑ کے پیش نظر ہندوستان کے مفادات کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ رمیش نے کہا کہ وزیراعظم مودی غیر ملکی دورے پر ہیں۔ مودی جاپان کے بعد چین جائیں گے ۔ پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران چین کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ دو طرفہ امور پر بات کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں چین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور وہ بھی زیادہ تر ان کی شرائط پر۔ چین ہندوستان۔ امریکہ تعلقات میں بگاڑ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ آپریشن سندور کے دوران پاکستان اور چین کی ملی بھگت کو ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بے نقاب کیا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ اسے فراموش کر دیا گیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان جئے رام رمیش نے چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مودی کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ وزیر اعظم کے 19 جون 2020 کے عجیب و غریب بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا ،نہ تو کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا ہے اور نہ ہی کوئی اندر ہے، نے ہماری بات چیت کی صلاحیت کو سنجیدگی سے کمزور کیا ہے۔اس بیان کی وجہ سے اب ہندوستان کے پاس گنجائش بہت کم رہ گئی ہے ۔ یہ دورہ اپریل 2020 کے حالات کو بحال کرنے میں ناکامی کے باوجود اسی بدنام اور بزدلانہ کلین چٹ کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم غیر ملکی دورے پر روانہ ہوئے ہیں، مئی 2023 کے واقعات سے پریشان منی پور کے لوگ اب بھی ان کی آمد کے منتظر ہیں، تاکہ زخموں پر مرہم رکھا جا سکے ۔ لیکن وزیر اعظم ریاستی رہنماؤں، سیاسی جماعتوں، سول تنظیموں یا عام لوگوں سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے پوری طرح سے منی پور کو بے آسرا چھوڑ دیا ہے ۔ منی پور وزیر داخلہ امیت شاہ کی زبردست ناکامی کا زندہ، افسوسناک ثبوت بن گیا ہے ۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایشیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں چین اور جاپان کے دورے پر ہیں۔ ٹوکیو کے ہنیدا ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی 28 اگست کو جاپان اور چین کے لیے روانہ ہوئے ۔ روانگی سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ یہ دورہ ہندوستان کے مفادات کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امن اور تعاون کو فروغ دے گا۔