ملک کی آبادی پر قابو پانے مرکز کے نئے اقدامات

   

2 سے زائد بچے رکھنے والوں کی سرکاری ملازمتوں اور سیاسی عہدوں سے محرومی کا امکان
حیدرآباد۔25ستمبر(سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر آبادی پر کنٹرول کی پالیسی کا تذکرہ کئے جانے کے بعد نیتی آیوگ کی جانب سے اس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کی حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے اور کہا جارہا ہے کہ حکومت بہت جلد آبادی پر قابو پانے کے سلسلہ میں جلد اپنی نئی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا اعلان کرے گی ۔مرکزی حکومت کے ذرائع کے مطابق ملک کی بیشتر ریاستوں میں شرح پیداوار معمول سے اضافہ ہوتی جار ہی ہے اسی لئے مرکزی حکومت کی جانب سے یہ منصوبہ تیار کیا جارہا ہے تاکہ ملک کی آبادی کو قابو میں رکھا جاسکے۔نیتی آیوگ کے ذرائع کے مطابق ہندستانی آبادی 137کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس میں تیزی سے ہونے والے اضافہ کو روکنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس بات پر بھی غور کیا جا رہاہے کہ 2 سے زائد بچے رکھنے والوں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم رکھنے کے علاوہ ان کو سیاسی عہدوں سے دور کیا جائے تاکہ آبادی پر قابو پانے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جائے۔بتایاجاتا ہے کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں آبادی پر کنٹرول کیلئے کئے جانے والے اقدامات اب تک بے فیض ثابت ہوچکے ہیں اسی لئے مرکزی حکومت کی جانب سے اب جو منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس کے تحت ملک میں دو سے زائد بچوں کے والدین کو سرکاری نوکریوں میں مواقع فراہمنہیں کئے جائیں گے

اور اسی طرح سیاسی عہدوں پر مقابلہ کے اہل نہیں رہیں گے۔نیتی آیوگ کے ذرائع کے کہنا ہے کہ نیتی آیوگ آبادی پر کنٹرو ل کے لئے جو منصوبہ بندی کر رہی ہے اس میں سابق میں کئے گئے فیصلوں اور ہم دو ہمارے دو تحریک کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے کہ جن ریاستوں میںپنچایت اور بلدی انتخابات میں 2سے زائد بچے رکھنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے ان ریاستوں میں شرح پیداوار کیا ہے اور کس طرح سے یہ اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔وز یر اعظم کی جانب سے آبادی پر قابو پانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اعلان کے بعد سے ہی نیتی آیوگ منصوبہ سازی اور تجاویز کی تیاری میں مصروف ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی کوئی تجویز یا سفارشات کو قطعیت دیتے ہوئے حکومت کو مطلع کیا جائے گا۔